اشتعال نہیں
Urdu book, p. 314
By Maulana Wahiduddin Khan
خلاف فیصلہ کرے گا وہ فرانس میں اپنی مقبولیت کو یکسر ختم کر دے گا۔ تاہم ڈیگال نے یہ خطرہ مول لے لیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں: ڈیگال نے الجیریا کے مسئلے کو اس وقت حل کر دیا جب کہ ان کے سوا کوئی دوسرا شخص اس کو حل نہیں کر سکتا تھا۔ (جلد 7، صفحہ 965) جنرل ڈیگال نے اس کے بعد الجیریا کے لیڈروں کو گفت و شنید کی دعوت دی۔ اس گفت و شنید کا فیصلہ عین منصوبہ کے تحت الجیریا کے حق میں ہوا۔ یعنی حکومت فرانس اس پر راضی ہو گئی کہ الجیریا میں ریفرنڈم کرایا جائے اور لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ فرانس کی ماتحتی پسند کرتے ہیں یا آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ ریفرنڈم ہوا۔ پیشگی اندازے کے مطابق الجیریا کے باشندوں نے آزاد الجیریا کے حق میں اپنی رائےیں دیں اور اس کا احترام کرتے ہوئے حکومت فرانس نے جولائی 1962 میں الجیریا کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں چارلس ڈیگال پر سخت تنقیدیں ہوئیں۔ ان کے اوپر قاتلانہ حملے کیے گئے۔ اس کے بعد عوام کے دباؤ کے تحت ڈیگال نے فرانس میں ایک ریفرنڈم کرایا جس میں ڈیگال کو شکست ہوئی۔۔ بالآخر انھوں نے 28 اپریل 1969 کو صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ 9 نومبر 1970 کو ان پر قلب کا دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ ڈیگال ایک معمولی قبرستان میں اس طرح دفن کر دیے گئے کہ ان کے جنازے میں ان کے چند رشتہ داروں اور دوستوں کے سوا کوئی اور شریک نہ تھا۔ ڈیگال خود مر گئے ۔ مگر انھوں نے مر کر اپنی قوم کو دوبارہ زندگی دے دی۔ ڈیگال کے اس واقعہ سے اگر ڈیگال ازم (Degaullism) کی اصطلاح بنائی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیگال ازم اپنی قیادت کی قیمت پر قوم کو بچانا ہے۔ برٹانیکا (1984) کے الفاظ میں، ڈیگال تنہا شخص تھے جن میں یہ حوصلہ تھا کہ وہ ایسے نازک فیصلے لے سکیں جن سے سخت قسم کے سیاسی اور شخصی خطرات (Political and personal risks) وابستہ ہوتے ہیں (7/965 .E.B)۔ ڈیگال ازم قومی زندگی کا راز ہے۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی قوم کو ایک” ڈیگال “حاصل ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader