کہانی بن گئی
Urdu book, p. 315
By Maulana Wahiduddin Khan
کہانی بن گئی سرنسٹن چرچل جو بعد کو برطانیہ کے وزیر اعظم بنے، افریقہ کے بوئروں کی جنگ (1899) میں برطانوی اخبار مارننگ پوسٹ کے جنگی نامہ نگار تھے۔ اس دوران ایک واقعہ پیش آیا جس کو جنوبی افریقہ کے سابق وزیر اعظم جان کرچین سمٹس نے چرچل کے عروج کے زمانہ میں سنایا۔ وہ چرچل کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس (واشنگٹن) کے ڈنر کے موقع پر تقریر کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ بوئر وار کے دوران مسٹر چرچل برطانوی سپاہیوں کے ایک دستہ کے ساتھ بوئروں کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ بوئروں نے سپاہی اور اخباری نامہ نگار میں کوئی تمیز نہیں کی۔ انھوں نے سب کو ایک ساتھ جیل میں ڈال دیا۔ مسٹر چرچل نے جیل سے اس واقعہ کی رپورٹ مجھے بھیجی اور اپنی فوری رہائی پر زور دیا۔ کیونکہ بین الاقوامی رواج کے مطابق اخباری رپورٹر کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے اس خط پر کاروائی شروع کی مگر اس سے پہلے کہ اس کیس کا فیصلہ ہو مسٹر چرچل کسی نہ کسی طرح جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس واقعہ کے کافی عرصہ بعد میری ملاقات مسٹر چرچل سے ہوئی جو اس وقت برطانوی کا بینہ کے رکن تھے ۔ میں نے وہ واقعہ یاد دلایا تو مسٹر چرچل بولے: آپ نے اچھا کیا کہ میرے خط پر میری درخواست کے باوجود فوری کاروائی نہ کی۔ اگر آپ جلدی میں میری رہائی کا انتظام کرا دیتے تو میرا نو ہزار پونڈ کا نقصان ہو جاتا۔‘‘ وہ کیسے،‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔‘‘ وہ اس طرح کہ میں نے اپنی جیل سے فرار ہونے کی داستان ایک رسالہ کے لیے لکھ کر نو ہزار پونڈ میں فروخت کیا۔‘‘ مسٹر چرچل اگر آسانی سے رہا ہو جاتے تو یہ واقعہ ایک سادہ واقعہ ہوتا وہ کہانی نہ بنتا۔ مگر گرفتاری اور اس کے بعد جیل سے فرار نے اس کو کہانی بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader