راز حیات
Urdu book, p. 320
By Maulana Wahiduddin Khan
معافی مانگنے تو سمجھ لیجئے کہ وہ صحیح انسان ہے۔ وہ غلطی کر کے اس کی تصحیح کرنا جانتا ہے۔ مگر جس کا حال یہ ہو کہ اس سے قول یا فعل کی غلطی صادر ہو اس کے بعد اس کا ضمیر اسے نہ تڑپائے۔ اس کے اندر احتساب کی کیفیت نہ جاگے اور اس کی زبان معافی مانگنے کے لیے نہ کھلے تو ایسا انسان بالکل بے قیمت انسان ہے وہ اس قابل نہیں کہ اُس پر کسی بھی معاملہ میں بھروسہ کیا جاسکے۔ غلطی پر غلطی آدمی اگر اپنی غلطی نہ مانے تو وہ ہمیشہ دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ دوسرے کو برا ظاہر کر کے اپنی برائی پر پردہ ڈال سکے ۔ ایک آدمی بے روزگار تھا۔ اس کے دوست نے کہا کہ تم کوئی کاروبار کرو۔ آدمی نے کہا میرے پاس سرمایہ نہیں۔ دوست نے کہا کہ تم کسی طرح پانچ ہزار روپے فراہم کر لو تو میں تم کو پانچ ہزار روپے بطور قرض دے دوں گا۔ پھر تم دس ہزار روپے سے اپنا کام کر لینا ۔ آدمی نے کہیں سے پانچ ہزار روپے حاصل کیے۔ اس کے بعد جب اس نے دوست سے وعدہ کے مطابق رقم مانگی تو اس نے عذر کر دیا۔ اس کے بعد دوست کا یہ حال ہوا کہ وہ اس آدمی کو مستقل برا کہتا رہتا۔ ہر موقع پر اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا۔ دوست ایسا کیوں کرتا تھا۔ جواب یہ ہے کہ اپنے احساس جرم کو دوسرے کے اوپر ڈالنے کے لیے ۔ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ میں روپیہ دینے کے لیے تو تیار تھا۔ مگر یہ آدمی اس قابل ہی نہ تھا کہ اس کو روپیہ دیا جائے۔ اس کی اپنی نالائقی نے اس کو روپیہ سے محروم رکھا ، نہ کہ میری کوتاہی نے ۔ انسان یا تو اپنی غلطی مانے گا یا دوسرے کو غلط کہے گا۔ وہ بیک وقت دونوں سے بچ کر نہیں رہ سکتا۔ ایسا آدمی بطور خود یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہوشیاری کر رہا ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے ایک جرم کو دو جرم بنا رہا ہے۔ پہلے مرحلہ میں دوست صرف وعدہ خلافی کا مجرم تھا ، اب وہ جھوٹا الزام لگانے کا بھی مجرم بن گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader