راز حیات
Urdu book, p. 321
By Maulana Wahiduddin Khan
جب بھی آدمی سے کوئی غلطی ہو تو بہترین بات یہ ہے کہ وہ اس کا اعتراف کرلے۔ غلطی کا اعتراف بات کو وہیں کا وہیں ختم کر دیتا ہے۔ مگر جب آدمی غلطی کا اعتراف نہ کرے تو لازماً ایسا ہوگا کہ وہ دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے گا اور اس طرح غلطی پر غلطی کرتا چلا جائے گا۔ آدمی یا تو اپنے کو غلط مان کر مطمئن ہوتا ہے یا دوسرے کو غلط ثابت کر کے۔ اگر وہ پہلا کام نہ کرے تو ضرور اس کو دوسرا کام کرنا پڑے گا۔ اور دوسرا کام یقینی طور پر اس کے لیے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ غلطی کرنا بشری کمزوری ہے۔ مگر جھوٹا الزام لگانا سرکشی ہے۔ اور کمزوری کے مقابلہ میں سرکشی یقیناً زیادہ بڑا جرم ہے۔ غلطی مان لینے سے ایک پریس نے ایک مرتبہ ایک بڑے ادارہ کی کتاب چھاپی۔ کتاب کی تعداد پانچ ہزار تھی۔ کتاب جب چھپ کر اور مکمل ہو کر ادارہ میں پہنچی تو اس کے بعد ادارہ کے منیجر کا ٹیلی فون آیا۔ وہ کہہ رہا تھا ”آپ فوراً یہاں آ کر مجھ سے ملئے“۔ پریس کا مالک پہنچا تو ادارہ کا منیجر اس کے اوپر برس پڑا۔ اس نے مطبوعہ کتاب کے چند نسخے دکھاتے ہوئے کہا” یہ دیکھیے، اس کی کٹنگ کتنی غلط ہوئی ہے“۔ پریس کے مالک نے دیکھا تو واقعی کٹنگ ترچھی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ایک طرف کا کونازيادہ نکلا ہوا تھا۔ پریس کے مالک نے دیکھا اور خاموش رہا۔ دوسری طرف ادارہ کا منیجر مسلسل بگڑے چلا جارہا تھا آخر جب وہ اپنے تمام الفاظ ختم کر چکا تو پریس کے مالک نے سنجیدگی کے ساتھ کہا: ”آپ کیوں اس قدر پریشان ہیں۔ نقصان تو ہمارا ہوا ہے، ہم کو پریشان ہونا چاہیئے“۔ ”کیا مطلب، آپ کا نقصان کیسا؟“ ”ظاہر ہے کہ اس حالت میں آپ کو کتاب نہیں دے سکتا۔ اس کو تو میں واپس لے جاؤں گا اور دوبارہ آپ کو دوسری کتاب چھاپ کر دوں گا۔ یہ میری ذمہ داری ہے۔ خواہ مجھے کتنا ہی نقصان ہو مگر مجھے آپ کو صحیح کام دینا ہے۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader