Urdu book · راز حیات

غلطی مان لینے سے

Urdu book, p. 322

By Maulana Wahiduddin Khan

پریس کے مالک کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ ادارہ کے مینیجر کا لہجہ یکا یک بدل گیا۔ وہی شخص جو پہلے بگڑے ہوئے انداز میں بول رہا تھا اب اس کا رویہ ہمدردانہ ہو گیا۔ کیونکہ پریس والے نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی۔ ادارہ کے مینیجر کو عام رواج کے مطابق اس کی امید نہیں تھی۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ وہ نہ صرف اپنی غلطی مان رہا ہے بلکہ اس کی پوری تلافی کرنے کے لیے تیار ہے تو اس کا متاثر ہونا بالکل فطری تھا۔ ”نہیں آپ اتنا نقصان کیوں برداشت کریں“ اس نے اپنا انداز بدلتے ہوئے کہا۔ جب پریس کے مالک نے دیکھا کہ مینیجر کا دل نرم پڑ چکا ہے تو اس نے مینیجر سے کہا: ایک شکل سمجھ میں آتی ہے۔ آپ مجھے چند کتابیں دے دیجئے ۔ میں کوشش کرتا ہوں۔ اگر کامیابی ہو گئی تو دوبارہ چھپوانے کی ضرورت نہ ہوگی۔ مینیجر نے کہا: بڑے شوق سے، آپ ضرور کوشش کیجئے۔ اس کے بعد پریس کا مالک کتاب کے دس نسخے لے کر واپس آگیا۔ اس نے اچھی مشین میں احتیاط سے کٹوا کر کتاب کے چاروں کونے دوبارہ صحیح کرائے۔ اب پریس کا مالک اس کو لے کر ادارہ کے مینیجر کے پاس گیا۔ مینیجر اس کو دیکھ کر خوش ہو گیا۔ اس نے کہا، بالکل ٹھیک ہے، اسی طرح آپ سب کتابیں درست کرا دیجئے ۔ ”گاہرک کی نظر میں جو غلطی ایک انچ کی ہوتی ہے اس کو میں ایک فٹ کے برابر ماننے کے لیے تیار رہتا ہوں“ پریس کے مالک نے کہا ” یہ در حقیقت کسی کاروبار میں کامیابی کے لیے بے حد اہم ہے۔ گاہرک کو مطمئن کر کے آپ گاہرک کو ہر چیز پر راضی کر سکتے ہیں۔“ بلکہ میرا تو یہ حال ہے“ پریس کے مالک نے مزید کہا ” کہ اگر میرے کام میں غلطی ہو گئی ہے اور وہ میری نظر میں آ جاتی ہے تو میں خود ہی گاہرک کو بتا دیتا ہوں کہ مجھ سے فلاں غلطی ہو گئی ہے۔ اب تلافی کی جو شکل بتاؤ، میں اس کے لیے تیار ہوں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گاہرک کو ہمدردی ہو جاتی ہے۔ اور بغیر کسی ناخوش گواری کے معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page