راز حیات
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو گئی۔ ورنہ چڑیاں اس قسم کی جرأت ہی نہ کرتے۔ اب آرٹسٹ نے دوسری تصویر بنائی۔ اس تصویر میں بھی ایک آدمی انگور کا خوشہ لیے ہوئے تھا۔ انگور کا خوشہ دوبارہ اس قدر مطابق فطرت تھا کہ چڑیاں اس کو دیکھ کر اس کے پاس آتیں۔ مگر اب انھیں چونچ مارنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ کیونکہ جو آدمی انگور کا خوشہ لیے ہوئے تھا اس کی آنکھیں اس قدر غضب ناک تھیں کہ ان کو دیکھتے ہی چڑیاں واپس لوٹ جاتیں۔ اعتراف نہیں نئی دہلی کے ایک خاندان کو ٹیلی گرام ملا۔ اس کا مضمون یہ تھا: Nani expired یعنی نانی کا انتقال ہو گیا۔ یہ ٹیلی گرام پڑھ کر گھر کے سب لوگ پریشان ہو گئے۔ پورا خاندان فوری طور پر اس مقام کے لیے روانہ ہو گیا جہاں مذکورہ نانی رہتی تھیں اور جہاں سے ٹیلی گرام موصول ہوا تھا۔ یہ لوگ جب گھبرائے ہوئے اور کافی پیسہ خرچ کر کے مذکورہ مقام پر پہنچے تو وہاں نانی صاحبہ زندہ سلامت موجود تھیں۔ معلوم ہوا کہ ٹیلی گرام کا اصل مضمون یہ تھا کہ نانی پہنچ گئیں (Nani reached) مگر وہ موصول کرنے والے کلرک کی غلطی سے نانی انتقال کر گئیں (Nani expired) بن گیا۔ (ٹائمز آف انڈیا، 6 دسمبر 1983) ٹیلی گراف آفس کو اس افسوسناک غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی۔ مگر اس کا جو نتیجہ ہوا وہ اخبار کے الفاظ میں یہ تھا: The P&T department has not yet accepted the charge of inefficiency, regrets only the inconvenience, if any. The Times of India, 7.12.1985

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader