راز حیات
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
محکمہ ڈاک و تار نے اپنی غفلت تسلیم نہیں کی۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اگر اس کی وجہ سے کوئی زحمت ہوئی ہو تو اس کو اس کا افسوس ہے۔ اوپر کی مثال صرف محکمہ تار کی مثال نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں تمام لوگوں کا حال ہے۔ ”میں نے غلطی کی،“ صرف چار الفاظ کا ایک جملہ ہے۔ مگر چار الفاظ کا یہ جملہ ادا کرنے والے چار انسان بھی مشکل سے آج کی دنیا میں ملیں گے۔ لوگوں کی ڈکشنری میں صرف یہ الفاظ ہیں کہ ”تم غلطی پر ہو۔“ لوگوں کی ڈکشنری ان الفاظ سے خالی ہے کہ ”میں غلطی پر ہوں۔“ آج کا انسان کسی قیمت پر اپنی غلطی کو نہیں مانتا، خواہ اس کی خاطر اسے حقیقت کو ذبح کرنا پڑے۔ خواہ ایک غلطی کو نہ ماننے کی کوشش میں وہ مزید بے شمار غلطیاں کرتا چلا جائے۔ اعتراف اردو زبان کے ایک استاد کلاس میں غزل پڑھارہے تھے۔ اس درمیان میں ایک مصرعہ آیا جو کتاب میں اس طرح چھپا ہوا تھا: پنجۂ سل سے کھلیں گے عقدۂ گیسوئے دوست استاد نے اس مصرعہ کی تشریح ان الفاظ میں کی— پنجۂ سل کا مطلب ہے سل کا پنجہ۔ کھلیں گے، یعنی وا ہو جائیں گے۔ عقدہ یعنی گرہ۔ گیسوئے دوست، یعنی محبوب کے گیسو۔ مصرعہ کا مطلب یہ ہے کہ محبوب کے گیسو پنجۂ سل سے کھل جائیں گے۔ طلبہ حیرانی میں تھے۔ کیوں کہ استاد کی مذکورہ تشریح کے باوجود مصرعہ کا مطلب واضح نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے نظم کے الفاظ کو نثر میں دہرا دیا تھا۔ اتنے میں کلاس کا ایک ذہین طالب علم اٹھا۔ اس نے کہا: ”سر، میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں“ ”کہو“ ”سر، یہ شاید طباعت کی غلطی ہے۔ میرے خیال سے یہ پنجۂ سل نہیں بلکہ پنجۂ شل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader