Urdu book · راز حیات

اعتراف

Urdu book, p. 326

By Maulana Wahiduddin Khan

اور شل کے معنی ہیں بے جان۔ کنگھا انسانی پنجہ کے مشابہ ہوتا ہے۔ بے جان ہونے کی وجہ سے شاعر نے اس کو پنجۂ شل کہا۔ شاعر افسوس کر رہا ہے کہ ہماری جاندار انگلیاں تو محبوب کی زلف کو سنوار نہ سکیں۔ اور کنگھا جس کی انگلیاں بے جان ہیں اور وہ گویا پنجۂ شل ہے، اس کی خوش بختی دیکھو کہ اس نے زلفِ محبوب کے بل کھول کر اس کو سنوار دیا۔ طالب علم کی اس وضاحت کے بعد کلاس کے تمام طلبہ خوش ہو گئے۔ ان کو محسوس ہوا کہ استاد کی تشریح کے باوجود جو مصرعہ بدستور ناقابل فہم بنا ہوا تھا اس کو طالب علم کی تشریح نے قابل فہم بنا دیا ہے مگر استاد محترم اپنی ہار ماننے والے نہیں تھے۔ انھوں نے فوراً کہا: درست، درست۔ پنجۂ سل اور پنجۂ شل ایک ہی بات ہے۔ حقیقت کھل جانے کے بعد آدمی اگر اس کا اعتراف نہ کرے تو گویا وہ چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو بڑا اور حقیقت کو چھوٹا ثابت کرے۔ مگر چوں کہ امر واقعہ اس کے خلاف ہے۔ اس لیے عملاً صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی خود چھوٹا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اعتراف ایک نو جوان کھلاڑی کو ایک فٹ بال ٹیم میں شامل ہو کر پچ کھیلنا پڑا۔ اتفاق سے اس کی ٹیم ہار گئی۔ ہارنے کے بعد نو جوان نے اپنے باپ کو خط لکھا: ہمارے مخالفوں کو ہماری دفاعی لائن میں ایک زبردست شکاف مل گیا تھا۔ اور وہ شکاف میں ہی تھا۔ یہ اعتراف کسی آدمی کے لیے سب سے بڑی بہادری ہے اور یہی تمام اجتماعی ترقیوں کی جان بھی ہے۔ ہر شکست ” دفاعی لائن میں کسی شکاف“ ہی کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ اور اس کا بہترین علاج اس کا اعتراف ہے۔ اعتراف کے ذریعہ اصل مسئلہ بغیر کسی مزید خرابی کے حل ہو جاتا ہے۔ اعتراف کرنے والا یا تو اپنی کمی کا احساس کرتے ہوئے اپنے آپ کو میدان سے ہٹا دیتا ہے ۔ اور اس طرح دوسرے بہتر لوگوں کو کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یا وہ اپنی ہار کو وقتی معاملہ سمجھ کر مزید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page