راز حیات
Urdu book, p. 327
By Maulana Wahiduddin Khan
تیاریوں میں لگ جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ بالآخر کامیاب ہو جاتا ہے ۔ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت اعتراف ہے ۔ ایمان ایک اعتراف ہے ۔ کیونکہ ایمان لا کر آدمی اپنے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کا اقرار کرتا ہے ۔ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی اعتراف ہے ۔ کیونکہ ان پر عمل کر کے ایک شخص بین انسانی ذمہ داریوں کا اقرار کرتا ہے ۔ تو بہ ایک اعتراف ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے آدمی اس حقیقت کا اقرار کرتا ہے کہ صحیح وہ ہے جو خدا کے نزدیک صحیح ہے اور غلط وہ ہے جو خدا کے نزدیک غلط ہے۔ زندگی کی ہر قسم کی اصلاح کا راز اعتراف میں چھپا ہوا ہے۔ کیونکہ انسان ہمیشہ غلطی کرتا ہے۔ اگر وہ اعتراف نہ کرے تو اس کی غلطیوں کی اصلاح کی دوسری کوئی صورت نہیں۔ اعتراف تمام ترقیوں کا دروازہ ہے ۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اعتراف کے لیے آمادہ کر سکے ۔ جب بھی ایسا کوئی موقع آتا ہے تو آدمی اس کو اپنی عزت کا سوال بنا لیتا ہے ۔ وہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خرابی بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ حتیٰ کہ وہ وقت آ جاتا ہے کہ جس غلطی کا صرف زبانی اقرار کر لینے سے کام بن رہا تھا اس غلطی کا اسے اپنی بربادی کی قیمت پر اعتراف کرنا پڑتا ہے ۔ دوسری غلطی نہیں ایک شخص سرکاری ملازم تھا۔ شہر میں اس کے پاس ذاتی مکان تھا۔ زندگی آرام سے گزر رہی تھی ۔ اس کے بعد اس کو اپنی لڑکی کی شادی کرنی پڑی ۔ شادی میں اس نے اپنے محکمہ سے ایک بڑا قرض لے لیا۔ لڑکی کی شادی دھوم سے ہو گئی ۔ مگر اس کے بعد ایک نیا مسئلہ سامنے آگیا۔ اس کی تنخواہ میں سے قرض کی قسط کٹنے لگی۔ اس کی وجہ سے اس کو ماہانہ ملنے والی رقم تقریباً آدھی ہو گئی ۔ خرچ چلنا مشکل ہو گیا۔ میاں بیوی نے مشورہ کیا کہ گھر کا ایک حصہ کرایہ پر دے دیں اور کرایہ میں جو رقم آئے اس کو ملا کر گزارہ کریں۔ انھوں نے ایک بڑا کمرہ اور اس سے ملا ہوا غسل خانہ اپنے لیے رکھا اور باقی پورا مکان کرائے پر دے دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader