راز حیات
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
پر اسرار مظہر ہے جس کو زندگی کہا جاتا ہے۔ زندگی اس کائنات کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ زندگی ایک ایسی طاقت ہے جس کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ اس کو پھیلنے اور بڑھنے کے حق سے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔ زندگی ایک ایسی قوت ہے جو اس دنیا میں اپنا حق وصول کر کے رہتی ہے جب زندگی کی جڑیں تک کھود دی جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ کہیں نہ کہیں اپنا وجود رکھتی ہے اور موقع پاتے ہی دوبارہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ جب ظاہری طور پر دیکھنے والے یقین کر لیتے ہیں کہ اس کا خاتمہ کیا جا چکا ہے ۔ اس وقت بھی وہ عین اس مقام سے اپنا سر نکال لیتی ہے جہاں اسے توڑا اور مسلا گیا تھا۔ درخت درخت کا ایک حصہ تنا ہوتا ہے اور دوسرا حصہ اس کی جڑیں ۔ کہا جاتا ہے کہ درخت کا جتنا حصہ او پر ہوتا ہے تقریبا اتنا ہی حصہ زمین کے نیچے جڑ کی صورت میں پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔ درخت اپنے وجود کے نصف حصہ کو سر سبز و شاداب حقیقت کے طور پر اس وقت کھڑا کرتا ہے جب کہ وہ اپنے وجود کے بقیہ نصف کو زمین کے نیچے دفن کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ درخت کا یہ نمونہ انسانی زندگی کے لیے خدا کا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی تعمیر اور استحکام کے لیے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے ۔ ایک مغربی مفکر نے لکھا ہے: Root Downward – Fruit Upward. That is the divine protocol. The rose comes to perfect combination of colour, line and aroma atop a tall stem. Its perfection is achieved, however, because first a root went down into the homely matrix of the common earth. Those who till the soil or garden understand the analogy. Our interests have so centred on gathering the fruit that it has been easy

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader