استحکام
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح قوم کی تعمیر میں توسیع سے زیادہ استحکام کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ استحکام کے بغیر توسیع ایسی ہی ہے جیسے بنیاد کے بغیر مکان کی تعمیر۔ جو معاملہ درخت کا ہے وہی انسانی زندگی کا بھی ہے۔ اگر آپ ٹھوس اور دیر پا تعمیر چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو صبر آزما انتظار کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا۔ اور لمبے عرصہ تک مسلسل محنت کرنی پڑے گی۔ لیکن اگر آپ بچوں کا گھر وندا بنانا چاہتے ہوں تو پھر صبح و شام میں ایسا گھر وندا بن کر تیار ہو سکتا ہے۔ البتہ ایسی حالت میں آپ کو اس حادثہ کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ جتنی دیر میں آپ کا گھر وندا بن کر کھڑا ہوا ہے، اس سے بھی کم مدت میں وہ دوبارہ زمین بوس ہو جائے ۔ ٹوٹنے کے بعد آپ لکڑی کو توڑیں تو وہ ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو جائے گی۔ اس کا ٹوٹنا ہمیشہ کے لیے ٹوٹنا بن جائے گا۔ لکڑی اپنے وجود کو دوبارہ پہلے کی طرح ایک نہیں بنا سکتی۔ مگر زندہ چیزوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زندہ چیز ٹوٹنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ ایک زندہ امیبا جب ٹوٹتا ہے تو وہ دو زندہ امیبا بن جاتا ہے۔ ہماری دنیا میں اس طرح کے واقعات خدا کی عظیم نشانی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک زندہ انسان کے لیے خدا نے اس دنیا میں کتنا بڑا امکان چھپا رکھا ہے۔ یہ امکان کہ اس کی کوئی بھی شکست آخری شکست نہ بنے۔ کوئی بھی حادثہ اس کو آخری طور پر ختم نہ کرنے پائے۔ ایک زندہ چیز یا ایک زندہ انسان کو کبھی توڑا نہیں جاسکتا۔ زندہ چیز اگر ٹوٹتی ہے تو اس کا ہر حصہ ایک نئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader