Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

زندہ وجود کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ عظیم بن جاتا ہے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ نا کامی اس کو فکری گہرائی عطا کرتی ہے۔ رکاوٹیں اس کے ذہن کے بند دروازے کو کھولتی ہیں۔ حالات اگر اس کے وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں تو اس کا ہر ٹکڑا دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لیتا ہے۔ اس امکان نے اس دنیا میں کسی انسان کو ابدی طور پر ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ زندہ ہو۔ وہ ٹوٹنے کے بعد دوبارہ اپنی قوتوں کو متحد کرنا جانتا ہو۔ بازی کھونے کے بعد وہ اپنا حوصلہ نہ کھوئے ۔ ایک کشتی ٹوٹنے کے بعد وہ دوبارہ نئی کشتی کے ذریعہ اپنا سفر شروع کر سکے۔ دنیا کا قانون گائے دودھ دیتی ہے۔ یہ ہر آدمی جانتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہوں کہ گائے کیسے دودھ دیتی ہے۔ گائے دودھ جیسی چیز دینے کے قابل صرف اس وقت بنتی ہے جب کہ وہ گھاس کو دودھ میں کنورٹ (تبدیل) کر سکے۔ گائے جب اس انوکھی صلاحیت کا ثبوت دیتی ہے کہ وہ کم تر چیز کو اعلیٰ چیز میں تبدیل کر سکتی ہے، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں دودھ جیسی قیمتی چیز فراہم کرنے والی بنے۔ یہی حال درخت کا ہے۔ درخت سے آدمی کو دانہ اور سبزی اور پھل ملتا ہے۔ مگر ایسا کب ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ درخت اس صلاحیت کا ثبوت دے کہ اس کے اندر مٹی اور پانی ڈالا جائے اور اس کو وہ تبدیل کر کے دانہ اور سبزی اور پھل کی صورت میں ظاہر کرے درخت کے اندر ایک کمتر چیز داخل ہوتی ہے اور اس کو وہ اپنے اندرونی میکانزم کے ذریعہ تبدیل کر دیتا ہے اور اس کو برتر چیز کی صورت میں باہر لاتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ زندگی بھی اسی قسم کا امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے کہ اس کو محرومیوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ اس کو ناخوش گوار حالات پیش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page