Urdu book · راز حیات

اخلاق کی طاقت

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاق کی طاقت خوش اخلاقی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس سے آپ کا کوئی تعلق ہو یا جس سے کوئی فائدہ وابستہ ہو اس کے ساتھ خوش اخلاقی برتنا۔ دوسرے یہ کہ خوش اخلاقی کو اپنی عام عادت بنا لینا اور ہر ایک سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ خوش اخلاقی کی پہلی قسم سے بھی آدمی کو کچھ نہ کچھ فائدہ ملتا ہے۔ مگر خوش اخلاقی کی دوسری قسم کے فائدے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر جوانی 1965 میں کلکتہ کی ایک بڑی دوا ساز فرم میں سیلز مین مقرر ہوئے۔ ان سے پہلے جو شخص ان کی جگہ پر کام کر رہا تھا اس کو 12 سو روپے تنخواہ اور آمد و رفت کے لیے ریلوے کا کرایہ ملتا تھا۔ جوانی نے کہا کہ میں تین ہزار روپے مہینہ لوں گا اور ہوائی جہاز سے سفر کروں گا۔ کارخانہ کے ڈائریکٹر نے کہا یہ تو بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا میں کام بھی بہت زیادہ دوں گا۔ آپ ایک بار تجربہ کر کے دیکھئے۔ بالآخر ان کا تقرر ہو گیا اور گجرات کا علاقہ ان کے سپر د ہوا۔ اس زمانہ میں گجرات میں ایک لیڈی ڈاکٹر تھی جس کی پریکٹس بہت کامیاب تھی اور اس کے یہاں دواؤں کی کھپت بہت زیادہ تھی۔ مگر وہ کسی مرد ایجنٹ سے نہیں ملتی تھی۔ ایک دوا ساز ادارہ کا ایجنٹ ایک بار اس کے یہاں آیا۔ باتوں کے دوران اس نے بتایا کہ میں پامسٹری جانتا ہوں اور ہاتھ بھی دیکھتا ہوں۔ لیڈی ڈاکٹر نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کر دیا۔ ایجنٹ نے دیکھ کر کہا کہ آپ کے ہاتھ کی ریکھائیں بہت اچھی ہیں۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اس کا ہاتھ چوم لیا۔ اس واقعہ کے بعد لیڈی ڈاکٹر کو مرد ایجنٹوں سے نفرت ہو گئی اور اس نے اپنے دوا خانہ میں مرد ایجنٹوں کا داخلہ بالکل بند کر دیا۔ مسٹر جوانی اپنے تجارتی سفر پر مذکورہ شہر کے لیے روانہ ہوئے تو کمپنی کے ڈائریکٹر سے لیڈی ڈاکٹر کا ذکر آیا۔ مسٹر جوانی نے کہا کہ میں اس سے بھی آرڈر لوں گا۔ ڈائریکٹر نے اس کو ان کی سادگی پر محمول کیا۔ اس نے کہا کہ اس سے آرڈر لینا بالکل ناممکن ہے۔ لیڈی ڈاکٹر اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page