اخلاق کی طاقت
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
بارے میں اتنا زیادہ مشہور ہو چکی تھی کہ لوگوں نے اس کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ مسٹر اجوانی اپنے سفر پر روانہ ہو گئے ۔ ہوائی جہاز میں ان کی سیٹ سے ملی ہوئی سیٹ پر ایک بوڑھی خاتون تھیں۔ راستہ میں ایسا ہوا کہ بوڑھی خاتون کو کھانسی اٹھی اور کف آنے لگا۔ بوڑھی خاتون پریشان ہوئی۔ مسٹر اجوانی کو اپنی عام اخلاقی عادت کے مطابق اس خاتون سے ہمدردی پیدا ہوئی اور انہوں نے فوراً اپنا رومال اس کے منھ کے سامنے کر دیا۔ اس کا کف اپنے رومال پر لے لیا اور پھر غسل خانہ میں جا کر اسے دھو لیا۔ خاتون اس واقعہ سے بہت متاثر ہوئی۔ اس خاتون کو بھی وہیں جانا تھا جہاں مسٹر اجوانی جا رہے تھے۔ ہوائی جہاز جب وہاں پہنچا اور بوڑھی خاتون باہر آئی تو وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوئی کہ اس کو لینے کوئی ہوائی اڈہ پر نہیں آیا ہے۔ یہ خاتون کسی بڑے گھر سے تعلق رکھتی تھی اور اس کو لینے کے لیے کار آنا چاہیے تھی۔ مگر اس کی آمد کی صحیح اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے اس کے گھر سے کار نہ آسکی۔ مسٹر اجوانی نے یہاں دوبارہ اس کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ میں ہوٹل جانے کے لیے ٹیکسی کر رہا ہوں۔ آپ اس پر بیٹھ جائیں۔ میں پہلے آپ کو آپ کے گھر اتار دوں گا۔ اس کے بعد اپنے ہوٹل پر جاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے بوڑھی خاتون کو اپنی ٹیکسی پر بٹھایا اور اس کو لے کر اس کے گھر پہنچے۔ خاتون نے اپنے گھر پہنچ کر ان کا نام اور پتہ پوچھا۔ انہوں نے اپنا نام اور ہوٹل کا پتہ لکھ کر دے دیا اور پھر اپنے ہوٹل آ گئے۔ کچھ دیر کے بعد خاتون کی لڑکی اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر پہنچی تو دیکھا کہ اس کی ماں آئی ہوئی ہے۔ اس نے کہا کہ ہم کو آپ کی آمد کی خبر نہ تھی اس لیے گاڑی ہوائی اڈہ پر نہ جا سکی۔ آپ کو بہت تکلیف ہوئی ہوگی۔ ماں نے کہا کہ نہیں مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور اس کے بعد اس نے مسٹر اجوانی کی پوری کہانی سنائی۔ یہ سن کر لڑ کی بہت متاثر ہوئی۔ اس نے فوراً مذکورہ ہوٹل کو ٹیلی فون کر کے مسٹر اجوانی سے رابطہ قائم کیا اور کہا کہ ہم آپ کے بہت مشکور ہیں اور رات کا کھانا آپ ہمارے یہاں کھائیں۔ مسٹر اجوانی مقررہ پروگرام کے مطابق خاتون کے مکان پر پہنچ گئے۔ جب لوگ کھانے کی میز پر بیٹھے اور تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ بوڑھی خاتون کی لڑکی وہی لیڈی ڈاکٹر ہے جس کو مرد ایجنٹوں سے نفرت تھی اور وہ مرد ایجنٹوں سے ملاقات کی روادار نہ تھی۔ جب اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader