Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

میں لوہا ڈالا جائے اور وہ پگھلنے سے انکار کر دے تو سارا مشینری کاروبار درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ ٹھیک یہی معاملہ انسانی اجتماعیت کا بھی ہے۔ کسی اجتماعی نظام میں جو افراد منسلک ہوتے ہیں ان میں سے ہر فرد کو اپنے اپنے مقام پر کوئی کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی کردار کی صحیح ادائیگی پر اجتماعیت کے قیام کا انحصار ہے۔ جس طرح مادی چیزوں کی قیمت ان کے مخصوص کیر کٹر کی بنا پر ہے۔ اسی طرح انسان کی قیمت بھی اس میں ہے کہ وہ مختلف مواقع پر اس کیر کٹر کا ثبوت دے جس کی بحیثیت انسان اس سے امید کی جاتی ہے۔ لوہا وہی لوہا ہے جو استعمال کے وقت بھی لوہا ہو۔ اسی طرح آدمی بھی وہی آدمی ہے جو تجربہ کے موقع پر لوہ پرش (لوہا انسان) ثابت ہو سکے۔ جو اس امید میں پورا اترے جو اس سے کی گئی ہے، وہ ہر موقع پر انسان ثابت ہو، نہ کہ غیر انسان۔ اچھا معاشرہ مادی دنیا کا نظام محکم نظام ہے اور انسانی دنیا کا نظام منتشر نظام۔ مادی دنیا میں ہر طرف بناؤ ہے اور انسانی دنیا میں ہر طرف بگاڑ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مادہ اپنے قوانین کا پابند ہے اور انسان اپنے قوانین کا پابند نہیں۔ کوئی طاقتور نظام یا ایک اچھا معاشرہ اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کے انسان حقیقی معنوں میں انسان ثابت ہوں ۔ جہاں پختگی کی ضرورت ہے وہاں وہ لوہے کی طرح پختہ بن جائیں ۔ جہاں نرمی کی ضرورت ہے وہاں وہ چشمہ کی طرح نرم ثابت ہوں ۔ جہاں چپ رہنے کی ضرورت ہے وہاں وہ پتھر کی طرح خاموش ہو جائیں ۔ جہاں ٹھہرنے کی ضرورت ہے وہاں وہ پہاڑ کی طرح جم کر کھڑے ہو جائیں ۔ جہاں اقدام کی ضرورت ہے وہاں وہ سیلاب کی طرح رواں بن جائیں ۔ وہ ہر موقع پر وہی بولیں جو انھیں بولنا چاہیے اور ہر موقع پر وہی ثابت ہوں جو انھیں ثابت ہونا چاہئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page