Urdu book · راز حیات

خودکشی نہیں

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

خودکشی نہیں پاکستان کے (ریٹائرڈ) جنرل عتیق الرحمن آج کل پاکستان فیڈرل سروس کمیشن کے صدر ہیں وہ ایک ”مہاجر“ ہیں اور دوسری جنگ عظیم میں فیلڈ مارشل مانک شاہ کے ساتھ برما میں کام کر چکے ہیں۔ فروری 1984 میں جنرل رحمان ایک سرکاری دورہ پر نئی دہلی آئے۔ ایک اخباری ملاقات میں انہوں نے کہا کہ برما کے زمانہ قیام میں ایک بار مانک شاہ شدید طور پر زخمی ہوگئے ۔ تکلیف نا قابل برداشت ہوگئی تو مانک شاہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو گولی مار کر اپنا خاتمہ کرلیں۔ انہوں نے جنرل رحمان سے ایک پستول مانگا۔ جنرل عتیق الرحمن نے پستول دینے سے انکار کر دیا۔ جنرل رحمان نے قہقہہ کے ساتھ کہا: مانک شاہ نے 1971 کی جنگ میں ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ، اگر اس کو میں اس وقت جانتا تو یقیناً میں اپنا پستول انہیں دے دیتا (ٹائمز آف انڈیا 20 فروری 1984 )۔ مانک شاہ دوسری عالمی جنگ میں مایوس ہو کر خودکشی کر رہے تھے حالانکہ اس کے 25 سال بعد 1971 کی جنگ میں وہ فاتح بن کر نمایاں ہونے والے تھے۔ اسلام میں خودکشی حرام ہے ، کیونکہ خودکشی خدا سے کامل مایوسی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ آخرت سے انکار کے ہم معنی ہے۔ اگر آدمی کو یقین ہو کہ مرنے کے بعد وہ ختم نہیں ہوگا بلکہ دوبارہ زندہ ہو کر آخرت کی دنیا میں پہنچ جائے گا تو وہ کبھی خودکشی نہ کرے۔ جس شخص کو آخرت کے مسئلہ کی سنگینی کا احساس ہو اس کے لیے ہر دوسری تکلیف ہیچ بن جائے گی۔ اسی کے ساتھ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے ۔ خودکشی کو حرام قرار دینا گویا انسان کو یہ پیغام دینا ہے کہ ۔ وقتی تکلیف سے گھبرا کر مستقبل کو نہ بھول جاؤ۔ موجودہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر انسان پر غم اور تکلیف کا لمحہ آتا ہے۔ مگر ایسے لمحات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page