راز حیات
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمیشہ وقتی ہوتے ہیں۔ اگر آدمی اس لمحے کو برداشت کرلے تو اس کو بہت جلد معلوم ہوتا ہے کہ ”تاریک حال“ میں اس کے لیے ایک ”روشن مستقبل“ کا امکان چھپا ہوا تھا۔ وہ شکست خوردہ ہو کر اپنے کو مٹا دینا چاہتا تھا حالانکہ مستقبل اس انتظار میں تھا کہ اس کا نام فاتح کی حیثیت سے تاریخ عالم میں درج کرے۔ اور تالا کھل گیا اس کی ناکام کوشش اب جھنجھلاہٹ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ وہ کافی دیر سے تالے کے ساتھ زور آزمائی کر رہا تھا۔ ”کنجی تو بظاہر صحیح ہے۔ یقیناً تالے کے اندر کوئی خرابی ہے جس کی وجہ سے تالا کھل نہیں رہا، اس نے سوچا۔ اس کا غصہ اب اس درجہ پر پہنچ چکا تھا کہ اگلا مرحلہ صرف یہ تھا کہ تالا کھولنے کے لیے وہ کنجی کے بجائے ہتھوڑے کا استعمال شروع کر دے۔ اتنے میں اس کے میزبان رفیق احمد آگئے۔ ”کیا تالا نہیں کھل رہا، انہوں نے کنجی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ ”اچھا آپ کنجی غلط لگا رہے تھے۔ اصل میں آج ہی میں نے اس کا تالا تبدیل کر دیا ہے۔ مگر میں نئی کنجی چھلے میں ڈالنا بھول گیا۔ اس کی کنجی دوسری ہے۔“ اس کے بعد انہوں نے جیب سے دوسری کنجی نکالی اور دم بھر میں تالا کھل چکا تھا۔ زمانہ جب بدلتا ہے تو ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہو جاتا ہے جو ماضی کی صلاحیت کی بنیاد پر حال کی دنیا میں اپنی قیمت وصول کرنا چاہیں۔ نئے زمانہ میں زندگی کے دروازوں کے تمام تالے بدل چکے ہوتے ہیں۔ مگر وہ پرانی کنجیوں کا گچھا لیے ہوئے نئے تالوں کے ساتھ زور آزمائی کرتے رہتے ہیں۔ اور جب ان کی پرانی کنجیوں سے نئے تالے نہیں کھلتے تو کبھی تالا بنانے والے پر اور کبھی سارے ماحول پر خفا ہوتے ہیں۔ حالانکہ جب تالا بدل چکے ہوں تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ پرانی کنجیوں سے نئے تالے کھل جائیں۔ حقیقت نگاری کے دور میں جذباتی تقریریں اور تحریریں، اہلیت کی بنا پر حقوق حاصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader