Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے کے دور میں رزرویشن کے مطالبے، تعمیری استحکام کے ذریعہ او پراٹھنے کے دور میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعہ قوم کا مستقبل برآمد کرنے کی کوشش، سماجی بنیادوں کی اہمیت کے زمانہ میں سیاسی سودے بازی کے ذریعہ ترقی کے منصوبے، یہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔ یہ ماضی کے معیاروں پر حال کی دنیا سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کرنا ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ایسے لوگوں کا انجام موجودہ دنیا میں صرف یہ ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہو کر رہ جائیں۔ جو کچھ ان کو بربنائے حق نہیں ملا ہے اس کو سمجھیں کہ وہ بربنائے ظلم ان کو نہیں مل رہا ہے اور پھر ہمیشہ کے لیے منفی ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائیں۔ شوق کافی ہے استاد یوسف دہلوی (م 1977) مشہور خوشنویس تھے۔ ان کو فن خطاطی پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار جلی خط کا مقابلہ ہوا۔ جمنا کے کنارے ریت کے میدان میں بہت سے خطاط جمع ہوئے۔ استاد یوسف آئے تو ان کے ہاتھ میں بانس کا ایک بڑا ٹکڑا تھا۔ انہوں نے بانس سے ریت کے اوپر لکھنا شروع کیا۔ الف سے ش تک پہنچے تھے کہ تقریبا ایک فرلانگ کا فاصلہ ہو گیا۔ لوگوں نے کہا کہ بس کیجئے۔ استاد یوسف نے کہا: میں نے جو لکھا ہے اس میں رنگ بھر دو اور پھر ہوائی جہاز سے چھوٹے سائز میں ان کا فوٹو لے لو۔ مجھے یقین ہے کہ فوٹو میں وہ خط رہے گا جو میرا اصل خط ہے۔ اس کے بعد کسی اور کو اپنا فن پیش کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے گئے تھے۔ وہاں شاہ سعود کی آمد پر ان کو ایک محراب کا مضمون لکھنے کے لیے دیا گیا۔ استقبال کی تیاریوں کا بچشم خود معائنہ کرنے لیے گورنر جنرل آئے۔ اس دوران انہوں نے استاد یوسف کا لکھا ہوا محراب بھی دیکھا۔ اس کے شان خط کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس خطاط نے لکھا ہے۔ چنانچہ استاد یوسف کو بلایا گیا۔ گورنر جنرل نے ان کے کام کی تعریف کی اور پوچھا کہ اس کو لکھنے میں آپ کو کتنا وقت لگا۔ استاد یوسف نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page