Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا کہ سات دن۔ گورنر جنرل نے فوراً اپنے سیکرٹری کو حکم دیا کہ استاد کو ان کی خدمت کے اعتراف میں سات ہزار روپے پیش کرو۔ چنانچہ اسی وقت ان کو اتنی رقم کا چیک دے دیا گیا۔ استاد یوسف سے ایک شخص نے پوچھا کہ خوش نویسی کا فن آپ نے کس استاد سے سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سے نہیں۔ ان کے والد خود ایک مشہور خوش نویس تھے۔ مگر انہوں نے اپنے والد کی شاگردی بھی نہیں کی۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ میں نے خوش نویسی کا فن لال قلعہ سے سیکھا ہے۔ لال قلعہ میں مغل دور کے استادوں کی وصلیاں (تختیاں) رکھی ہوئی ہیں۔ ان تختیوں میں قطعات لکھے ہوئے ہیں جو فن خطاطی کے شاہکار نمونے ہیں۔ استاد یوسف دس سال تک برابر یہ کرتے رہے کہ لال قلعہ جا کر ان تختیوں کو دیکھتے۔ ہر روز ایک قطعہ اپنے ذہن میں بٹھا کر واپس آتے۔ اس کو اپنے قلم سے بار بار لکھتے۔ اور پھر اگلے دن اپنا لکھا ہوا کاغذ لے کر لال قلعہ جاتے۔ وہاں کی محفوظ تختی سے اپنے لکھے ہوئے کو ملاتے اور اس طرح مقابلہ کر کے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے۔ اس طرح مسلسل دس سال تک ہر روز لال قلعہ کی قطعات کی تختیوں سے وہ خود اپنی اصلاح لیتے رہے اور ان کو دیکھ دیکھ کر مشق کرتے رہے۔ یہی دس سالہ جد و جہد تھی جس نے انہیں استاد یوسف بنا دیا۔ اگر آدمی کے اندر شوق ہو تو نہ پیسہ کی ضرورت ہے اور نہ استاد کی، نہ کسی اور چیز کی۔ اس کا شوق ہی اس کے لیے ہر چیز کا بدل بن جائے گا۔ وہ بغیر کسی چیز کے سب چیز حاصل کر لے گا۔ زبان درازی سقراط کا قول ہے۔ اگر تم اتنے زبان دراز ہو کہ تمہاری زبان درازی کے مقابلہ میں کوئی تم سے جیت نہ سکے تو تم کبھی غریبوں کے ساتھ ہمدردی نہیں کر سکتے۔ بظاہر یہ عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے کہ زبان درازی کا غریبوں کے ساتھ ہمدردی سے کیا تعلق لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو ان میں بہت گہرا تعلق ہے۔ غریب کے ساتھ ہمدردی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page