Urdu book · راز حیات

زبان درازی

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

وہی شخص کر سکتا ہے جو حق کا اعتراف کرنا جانتا ہو، خواہ اس حق کا تعلق ایک غریب آدمی سے کیوں نہ ہو۔ ایک واقعہ سے اس کی بخوبی وضاحت ہو جائے گی۔ ایک زمیندار نے اپنا آم کا باغ کسی باغبان کے ہاتھ فروخت کیا، جب درختوں میں پھل لگے تو آندھی آئی۔ اس آندھی میں بہت سے پھل گر گئے۔ باغبان کو اندیشہ ہوا کہ وہ پھلوں کی فروخت سے پوری قیمت حاصل نہ کر سکے گا اور اس کو نقصان ہوگا۔ اس نے ٹوٹے ہوئے آم ایک ٹوکری میں رکھے اور ان کو لے کر زمیندار کے پاس گیا۔ اور کہا کہ دیکھتے آندھی کی وجہ سے کافی پھل گر گئے ہیں۔ اور ہم کو نقصان کا اندیشہ ہے اس لیے آپ باغ کی قیمت میں کچھ کمی کر دیں۔ زمیندار نے یہ سنا تو بگڑ کر کہا جب تم نے ہمارا باغ خریدا تھا اس وقت تم کو یہ معلوم نہ تھا کہ باغ کے گرد کوئی ایسی اونچی دیوار کھڑی ہوئی نہیں ہے جو آندھی اور باغ کے درمیان روک بن سکے۔ غریب باغبان مایوس ہو کر چلا گیا۔ زمیندار کے ایک دوست اس وقت زمیندار کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اور زمیندار اور باغبان کی پوری بات سن رہے تھے۔ جب باغبان چلا گیا تو انہوں نے زمیندار سے کہا۔ تم بہت سنگدل معلوم ہوتے ہو، غریب آدمی پر رحم کرنا نہیں جانتے۔ زمیندار صاحب نے یہ سن کر کہا۔ آپ جیسے تعلیم یافتہ لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان کو رزق دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ رزق دینے والا خدا ہے، وہ بہر حال ہر ایک کو اس کا رزق پہنچاتا ہے۔ طاقتور کے مقابلہ میں آدمی زیادہ بول نہیں پاتا۔ مگر جب کمزور سے معاملہ ہو تو وہ خوب زبان درازی دکھاتا ہے۔ اس کی یہ زبان درازی اس کو یہ موقع نہیں دیتی کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ معاملہ کو سمجھے اور حق کو مان کر اس کے مطابق وہ کرے جو اسے کرنا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page