Urdu book · راز حیات

حقیقت پسندی نہ کہ شوق

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت پسندی نہ کہ شوق شہد کی مکھیاں اپنا چھتہ جہاں بناتی ہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پھولوں کا مقام اس سے کئی میل دور ہوتا ہے۔ ایک پھول میں بہت تھوڑی مقدار رس کی ہوتی ہے۔ اس لیے بھی اس کو بہت دور دور تک جانا ہوتا ہے۔ تا کہ بہت سے پھولوں کا رس چوس کر ضروری مقدار حاصل کر سکے۔ شہد جمع کرنے والی مکھی سارے دن اڑائیں بھرتی ہے تا کہ وہ ایک ایک پھول کا رس نکالے اور اس کو لا کر اپنے چھتہ میں جمع کرے ۔ مشاہدہ سے معلوم ہوا کہ شہد کی مکھی جب اپنے پہلے سفر پر نکلتی ہے تو اندھیرے میں روانہ ہوتی ہے۔ مگر شام کو جب پھولوں کے مقام سے وہ اپنی آخری باری کے لیے چلتی ہے تو اس کا یہ سفر نسبتاً اجالے میں ہوتا ہے۔ پہلی باری کے لیے اندھیرے میں چلنا اور آخری باری کے لیے اجالے میں سفر شروع کرنا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ دونوں وقتوں کا فرق ہے۔ صبح کے وقت سفر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اندھیرے سے اجالے کی طرف جارہی ہے۔ جب کہ شام کے وقت سفر کا مطلب اجالے سے اندھیرے کی طرف جانا ہے۔ شہد کی مکھی وقت کے اس فرق کو ملحوظ رکھتی ہے اور اس کی پوری طرح رعایت کرتی ہے۔ شہد کی مکھی اپنے لمبے سفر کو چونکہ سورج کی روشنی ہی میں صحیح صحیح انجام دے سکتی ہے۔ اندھیرے میں اس کا امکان رہتا ہے کہ وہ بھٹک جائے اور اپنی منزل پر نہ پہنچے۔ اس لیے صبح کو وہ اپنی پہلی باری اندھیرے میں شروع کر دیتی ہے۔ کیوں کہ وہ جانتی ہے کہ اگلے لمحات اجالے کے لمحات ہوں گے ۔ اس کے برعکس ، شام کو اپنی آخری باری کے لیے وہ اجالا رہتے ہوئے چل پڑتی ہے۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ جتنی دیر ہوگی اتنا ہی اندھیرا ہٹتا چلا جائے گا۔ یہ قدرت کا سبق ہے۔ اس طرح قدرت بتاتی ہے کہ زندگی میں ہمارا ہر قدم حقائق کی بنیاد پر اٹھنا چاہیے، نہ کہ خوش فہمیوں اور موہوم امیدوں کی بنیاد پر۔ آنے والے لمحات کبھی ”اندھیرے“ کے لمحات ہوتے ہیں اور کبھی ”اجالے“ کے لمحات ، اگر اس فرق کی رعایت نہ کی جائے اور آنے والے لمحات کا لحاظ کیے بغیر بے خبری میں سفر شروع کر دیا جائے تو آنے والا ہر لمحہ ہماری رعایت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page