حقیقت پسندی نہ کہ شوق
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں کرے گا۔ وہ اپنے نظام کے تحت آئے گا، نہ کہ ہماری خوش فہمیوں کے تحت۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی ہم سمجھیں گے کہ ہم روشن مستقبل اور شاندار انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حالانکہ اگلا لمحہ جب آئے گا تو معلوم ہوگا کہ ہم صرف اندھیروں کی طرف بڑھے چلے جا رہے تھے۔ دشمنی کے وقت بھی روس اور امریکا دونوں ایک دوسرے کے سخت ترین دشمن ہیں۔ مزید یہ کہ دونوں نے بے حساب مقدار میں خطرناک نیوکلیئر ہتھیار تیار کر رکھے ہیں۔ جو منٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک معمولی سی غلط نہی دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان ایک ایسی جنگ چھید سکتی ہے جو ان کے شاندار شہروں کو اچانک کھنڈر میں تبدیل کر دے۔ چنانچہ یہ ممالک ایک طرف ایک دوسرے کے خلاف ہر قسم کے انتہائی مہلک ہتھیار جمع کر رہے ہیں دوسری طرف دونوں کے درمیان پچھلے 20 سال سے ہنگامی مواصلات (Emergency Communications) کا ایک نظام قائم ہے جس کے ذریعہ رات دن کے کسی بھی لمحہ میں دونوں ایک دوسرے سے ربط پیدا کر سکتے ہیں۔ اور نازک مواقع پر فوراً براہ راست گفتگو کر کے جنگ کے اتفاقی خطرہ کو ٹال سکتے ہیں۔ اس ہر وقت متحرک رہنے والے مواصلاتی نظام کو گرم لائن (Hot-Line) کہا جاتا ہے۔ نیوکلیئر ہتھیاروں کی مزید ترقی کے بعد محسوس کیا گیا کہ قدیم گرم لائن بہت ”سست“ ہے۔ وہ ہتھیاروں کے رفتار سفر میں جدید ترقیوں کی نسبت سے جنگ کے فوری اندیشہ کو ٹالنے کے لیے سراسر ناکافی ہے۔ چنانچہ پچھلے ایک سال سے ماسکو اور واشنگٹن کے ماہرین اس موضوع پر گفتگو کر رہے تھے کہ موجودہ گرم لائن کو ترقی دے کر اس کو وقت کے تقاضوں کے مطابق (Update) کیا جائے۔ بالآخر جولائی 1984ء میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئے معاہدہ پر سمجھوتہ ہو گیا۔ (ٹائمز آف انڈیا 11

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader