Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

اب تک جو ٹیلکس مشینیں ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان پیغام رسانی کے لیے استعمال ہو رہی تھیں وہ ایک منٹ میں ساٹھ الفاظ (ایک سیکنڈ میں ایک لفظ) ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتی تھیں ۔ نئے معاہدے کے تحت جو سسٹم رائج کیا گیا ہے اس کے مطابق ایک تیار شدہ مضمون (prepared text) کے پورے ایک صفحہ کا عکس صرف ایک سیکنڈ میں واشنگٹن سے ماسکو یا ماسکو سے واشنگٹن پہنچ جائے گا ۔ گویا تیز رفتاری کے اعتبار سے پہلے کے مقابلہ میں کئی سوگنا زیادہ ۔ اس طرح روس اور امریکہ نے خطرہ سے بچاؤ کی تدبیر کو خطرہ کے مطابق کر لیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندہ لوگ دشمنی کی آخری حد پر پہنچ کر بھی کس قدر باہوش رہتے ہیں ۔ دوسری طرف مردہ لوگ ہیں جن کو صرف یہ معلوم ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر لڑ جائیں اور پھر اپنی بے معنی لڑائی کو کسی حال میں ختم نہ کریں ۔ تعلیم کی اہمیت تعلیم صرف روزگار کا سرٹیفکیٹ نہیں۔ اس کا اصل مقصد قوم کے افراد کو باشعور بنانا ہے۔ افراد کو باشعور بنانا ملت کی تعمیر کی راہ کا پہلا قدم ہے۔ ملت کا سفر جب بھی شروع ہوگا یہیں سے شروع ہوگا۔ اس کے سوا کسی اور مقام سے ملت کا سفر شروع نہیں ہوسکتا۔ باشعور بنانا کیا ہے۔ باشعور بنانا یہ ہے کہ ملت کے افراد ماضی اور حال کو ایک دوسرے سے جوڑ سکیں۔ وہ زندگی کے مسائل کو کائنات کے ابدی نقشہ میں رکھ کر دیکھ سکیں۔ وہ جانیں کہ وہ کیا ہیں ۔ اور کیا نہیں ہیں۔ وہ اس راز سے واقف ہوں کہ وہ اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ سے ہم آہنگ کر کے ہی خدا کی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ باشعور انسان ہی حقیقی معنوں میں انسان ہے۔ جو باشعور نہیں وہ انسان بھی نہیں۔ باشعور آدمی اپنے اور دوسرے کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کی کون سی رائے جانب دارانہ رائے ہے اور کون سی غیر جانب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page