راز حیات
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
دارانہ۔ جب بھی کوئی موقع آتا ہے تو وہ پہچان لیتا ہے کہ یہاں کون سی کارروائی ردعمل کی کارروائی ہے اور کون سی مثبت کارروائی۔ وہ شر کو خیر سے جدا کرتا ہے اور باطل کو الگ کر کے حق کو پہچانتا ہے۔ ایک آنکھ وہ ہے جو ہر آدمی کی پیشانی پر ہوتی ہے۔ تعلیم آدمی کو ذہنی آنکھ عطا کرتی ہے۔ عام آنکھ آدمی کو ظاہری چیزیں دکھاتی ہے، تعلیم کی آنکھ آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ معنوی چیزوں کو دیکھ سکے۔ جس طرح ایک کسان بیج کو درخت بناتا ہے۔ اسی طرح تعلیم گاہ کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو فکری حیثیت سے اس قابل بنائے کہ وہ ارتقائے حیات کے سفر کو مکمل کر سکے۔ تعلیم آدمی کو ملازمت دیتی ہے۔ مگر یہ تعلیم کا ثانوی فائدہ ہے۔ تعلیم کا اصل پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کو زندگی کی سائنس بتائے۔ وہ آدمی کو حقیقی معنوں میں آدمی بنا دے۔ اس کے باوجود 11 نومبر 1986 کی صبح کو میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ میری عینک ایک بھول کی وجہ سے پتھر کے فرش پر گر پڑی۔ اس کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ تھوڑی دیر کے لیے مجھے جھٹکا لگا۔ پھر میں نے سوچا کہ اس دنیا میں تو ہمیشہ یہی ہوگا کہ یہاں پتھر کا فرش بھی رہے گا اور نازک شیشہ بھی۔ اس لیے اس دنیا میں حفاظت اس کا نام نہیں ہے کہ چیزیں کبھی نہ ٹوٹیں۔ اس دنیا میں حفاظت یہ ہے کہ ٹوٹنے کے باوجود ہم چیزوں کو محفوظ رکھ سکیں۔ محرومی کے درمیانی واقعات پیش آنے کے باوجود ہم اپنے آپ کو آخری محرومی سے بچائیں۔ گلاب کا پھول کتنا خوبصورت ہوتا ہے۔ اس کو پھولوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے مگر جس ڈالی میں گلاب کا نازک پھول کھلتا ہے، اسی ڈالی میں سخت کانٹے بھی لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ قدرت کا قانون ہے۔ ہمارے لیے ناممکن ہے کہ ہم پھول کو کانٹے سے جدا کر سکیں۔ ہمیں کانٹے کے باوجود پھول کو لینا ہوگا۔ ہم اس دنیا میں کانٹے کے بغیر پھول کو نہیں پا سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader