فتح باب
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ صدی کے نصف تک دنیا میں مغربی استعمار کا دور تھا۔ اس زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے لڑائی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کو جنگ و جدال والا اسلام اپنے حق میں زیادہ مفید نظر آیا۔ چنانچہ ہندوستان میں اور ساری دنیا میں ایک خود ساختہ اسلام کی دھوم مچا دی گئی۔ حتی کہ یہی اسلام لوگوں کی نظر میں اصل اسلام بن گیا۔ اس زمانہ کے تمام مسلم رہنما رد عمل کی نفسیات کا شکار ہو کر قولی یا عملی لڑائی میں مشغول ہو گئے یہی زمانہ ہے جبکہ اقبال نے کہا: تینوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجرِ ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا اس زمانہ میں مسلم اداروں نے تلوار کو اپنا شعار بتایا۔ ابو الکلام آزاد نے امام حسین کو شہیدِ اعظم اور تاریخ کا سب سے بڑا ہیرو بنا کر پیش کیا۔ ابو الاعلیٰ مودودی نے الجہاد فی الاسلام لکھی۔ وغیرہ۔ اس قسم کی تحریروں اور تقریروں نے اسلام کو لوگوں کی نظر میں جنگ اور ٹکڑاڈ کا مذہب بنا دیا۔ مسلمان اس بات کو بھول گئے کہ ان کے رسول کو خدا نے ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا تھا۔ اور اسلام کے جس سبق کو مسلمان بھلا دیں، اس کو غیر مسلم بدرجہ اولیٰ فراموش کر دیں گے۔ مگر اب نئے حالات کا دباؤ اس غلط ذہن کی تصحیح کر رہا ہے۔ اب مسلمان عین حالات کے تقاضے کے تحت، اس اسلام کی طرف لوٹ رہے ہیں جو اصلی اور حقیقی اسلام ہے۔ اب نہ صرف یہ ہوگا کہ مسلمان اسلام کی صبر و اعراض اور نصح و امانت والی تعلیمات کی اہمیت کو از سرِ نو دریافت کریں گے، بلکہ خود اپنی فکری مدافعت کے لیے اس کو ضروری سمجھیں گے کہ اسلام کے رحمت والے پیغام کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کریں تاکہ دوسروں کی نظر میں ان کی صحیح تصویر بنے۔ دوسروں کی نظر میں ان کا وقار پیدا ہو۔ وہ عزت اور امن کے ساتھ اس ملک میں رہ سکیں ۔ وہ ایسے دین کے حامل قرار پائیں جو آدمی کو لوگوں کی نظر میں محبوب و مطلوب بنا دیتا ہے۔ اب تک مسلمانوں کے لیڈر انھیں خود ساختہ اسلام کا نمائندہ بنائے ہوئے تھے۔ اب نئے حالات انھیں اس طرف لے جا رہے ہیں کہ وہ خدا کے سچے دین کے نمائندہ بنیں یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے مستقبل کی تعمیر ہے۔ وہ اسلامی دعوت کے لیے فتح باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان حالات پر جب میں غور کرتا ہوں تو مجھے تاریخ دوبارہ دہرائی جاتی ہوئی نظر آتی ہے جہاں وہ تاتاری حملہ کے بعد عالمِ اسلام میں پہنچی تھی۔ عباسی دور میں مسلمانوں کے درمیان اسلام کا جو ڈھانچہ موجود تھا، وہ ایک ایسا ڈھانچہ تھا جس میں انسان کے لیے بہت کم کشش باقی رہ گئی تھی۔ اسلام کا تو سیعی سیلاب رک گیا تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اس مصنوعی ڈھانچہ کو توڑ دیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان وہ اسلام آگیا جو سچا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader