Urdu book · روشن مستقبل

نادان دوست

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

وشو ہندو پریشد اور راشٹریہ سوم سیوک سنگھ کو سخت برا مانتے ہوئے ، بزرگ سیاست داں نے لکھا ہے کہ مسجد کو ڈھانے کا تصور بجائے خود ہند و خصوصیات کی نفی ہے۔ یہ فاشسٹ نظریہ ہے، یہ نظریہ ملک کو توڑ ڈالے گا۔ موجودہ ہر اگر حقیقی معنوں میں " ہند و لہر " ہوتی تو اس سے وہ نتائج نکلتے جو ہندو دھرم کے امتیازی اوصاف سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ملک سے اہنکار ختم ہوتا ، کیوں کہ ہند و تعلیمات میں اہنکار کو بہت برا مانا گیا ہے۔ اس سے دوسروں کے اعتراف کا دریا امڈتا ، کیوں کہ ہند و فکر کی یہ امتیازی صفت ہے کہ وہ سچائی کے تعدد کا قائل ہے، ہر اختلاف کو وہ سچائی کا نیا روپ سمجھتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں چاروں طرف رواداری کی ہوائیں چلتیں ، کیوں کہ ہند و فکر یہ کہتا ہے کہ اپنے کو حق سمجھتے ہوئے دوسرے کے بر سر حق ہونے کا بھی اعتراف کر وہ ، خواہ بظاہر وہ تمہارے نظریے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس لہر کے بعد پورے ملک میں امن و شانتی اور جان کے احترام کا ماحول دکھائی دیتا ، کیوں کہ ہندو دھرم جان مارنے کو آخری حد تک برا سمجھتا ہے۔ حتی کہ ایک ہند و مفکر نے کہا کہ احساس کو مارنے ہی کا نام گناہ ہے اور احساس کو نہ مارنے کا نام ثواب : Killing of a sensation is sin, and vice versa. مگر عملاً ہم اس کے بالکل مختلف صورت حال دیکھ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اس لہر کو ہند و لہر کیسے کہا جا سکتا ہے۔ " اگر واد " میں یقین کرنے والے کچھ لوگ اگر تشدد اور تخریب کی تحریک چلائیں اور اپنی تقریروں سے عوام کی ایک بھیڑ اکٹھا کر لیں ، اس کے بعد اس کا نام گاندھی لہر رکھ دیں تو کیا یہ صحیح ہوگا ۔ ظاہر ہے کہ وہ صحیح نہ ہوگا۔ کیوں کہ ایسی لہر حقیقتاً اینٹی گاندھی لہر ہے نہ کہ گاندھی لہر۔ یہی معاملہ ان انتہا پسند ہند و بھائیوں کا ہے جن کو ٹائم میگزین ( ۱۵ نومبر ۱۹۹۰) نے جنگ جو (Militant Hindus) کہا ہے اور جو بابری مسجد کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں۔ وہ اپنی اس تحریک کو اس چیز کا حصہ سمجھتے ہیں جس کو وہ ہند و تو کہتے ہیں۔ یہ تحریک با اعتبار حقیقت مسلمانوں کے خلاف ہے۔ چنانچہ مسٹر ایل کے اڈوانی نے اس کی تشریح (minorityism versus nationalism) (اقلیت نوازی بمقابلہ قومیت ) کے الفاظ میں کی ہے (انڈیا ٹوڈے ، ۳۱ اکتوبر ۱۹۹۰، صفحه ۵۹)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page