Urdu book · روشن مستقبل

نادان دوست

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

اس موضوع پر ہمارے ہندو بھائی جو پرتشدد تحریک چلا رہے ہیں، وہ واضح طور پر رواداری، اہمسا اور ہر ایک کے احترام کے خلاف ہے جس کو ہندو ازم کا بنیادی اصول بتایا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس تحریک کو بھی ہندوہر کا نام دیا جائے گانہ کہ ہند و ہر کا۔ عقیدہ یا تاریخ یہ حضرات کہتے ہیں کہ اجودھیا کی بابری مسجد عین رام جنم بھومی کے مقام پر بنی ہے، اس لئے، ہم مسجد کو ڈھا کر دوبارہ وہاں رام مندر بنائیں گے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ کا دعویٰ تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا۔ مگر وہ اس پر دھیان دینے کے لئے تیار نہیں۔ مثال کے طور پر تاریخ بتاتی ہے کہ بابری مسجد ۱۵۲۸ میں بنائی گئی۔ اس کے تقریباً چالیس سال بعد تلسی داس (وفات، بنارس ۱۶۲۳) اجودھیا جاتے ہیں۔ وہ وہاں کے مندروں کو دیکھتے ہیں اور رام کی زندگی پر ارددھی زبان میں اپنی کتاب رام چرت مانس (۷۲-۴۱۵) لکھتے ہیں۔ اس تفصیلی کتاب میں رام کے بارے میں ہر چیز موجود ہے۔ مگر اس میں رام جنم بھومی پر بنے ہوئے مندر کو توڑ کر مسجد بنانے کوئی ذکر نہیں۔ حالانکہ یہ شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵-۱۵۵۲) کا زمانہ تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، اکبر ایک ہندو نواز بادشاہ تھا۔ اس کی ملکہ بھی ایک ہندو خاتون تھی۔ اگر مندر توڑنے کا واقعہ صحیح ہوتا تو اکبر جیسے بادشاہ کے زمانہ میں تلسی داس اس کی بے خوف و خطر نشاندہی کرتے کہ بابر کے حاکم میر باقی نے رام مندر کو توڑ کر وہاں مسجد بنادی تھی۔ تلسی داس اگر اس کا اعلان کرتے تو اس کے بعد یا تو فوراً شاہی فرمان نافذ ہوتا کہ اس عمارت کو ہندوؤں کے حوالہ کر دیا جائے ۔ یا کم از کم تلسی داس کی کتاب میں اس کا ریکارڈ ہمارے پڑھنے کے لئے موجود رہتا۔ اس طرح کے حقائق جب پیش کئے جاتے ہیں تو مذکورہ حضرات کہتے ہیں کہ یہ ہمارے عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ اس معاملے میں ہم تاریخ کی کوئی بات نہیں سنیں گے اور نہ عدالت کا فیصلہ مانیں گے۔ کیونکہ مذہبی عقیدہ کا تعلق تاریخ اور عدالت سے نہیں ہوتا۔ یہ جواب سراسر غیر معقول ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مذہبی عقیدہ کا تعلق تاریخ یا عدالت سے نہیں ہوتا۔ مگر مندر کو توڑ کر مسجد بنانے “ کا مسئلہ مکمل طور پر ایک تاریخی مسئلہ ہے نہ کہ عقیدہ کا مسئلہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page