مرداں چنیں کنند
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹامسن بے حد شریف آدمی تھا۔ اخلاقی حیثیت سے بھی اس سے کسی کو شکایت نہیں ہوئی۔ ایڈیٹروں کے انتخاب میں وہ انتہائی چھان بین کرتا تھا۔ مگر جب کسی شخص کو کسی اخبار کا ایڈیٹر مقرر کر دیتا تو اس کو اپنے دائرۂ عمل میں مکمل آزادی دے دیتا تھا۔ حتیٰ کہ اس کے ایڈیٹروں کو یہ حق بھی تھا کہ وہ خود ٹامسن کے خلاف مضامین لکھ سکیں۔ ٹامسن کی سوانح عمری رسل برینڈن نے لکھی ہے جس کا نام ہے: Roy Thomson of Fleet Street, 1965 سوانح نگار لکھتا ہے کہ ٹامسن کی واحد کمزوری یہ تھی کہ وہ ”لارڈ“ بننے کا بہت زیادہ حریص تھا۔ اس نے دیکھا کہ اپنے ملک کناڈا میں اس کی یہ تمنا پوری نہ ہو سکے گی۔ کیوں کہ کناڈا نے لارڈ کا خطاب دینے کے برطانوی طریقے کو ختم کر دیا تھا۔ چنانچہ ٹامسن نے برطانوی شہریت اختیار کر لی۔ اسے یقین تھا کہ برطانیہ آنے کے بعد وہ ضرور لارڈ بننے کا خواب پورا کر سکے گا۔ مگر یہاں بھی ایک رکاوٹ سامنے آ گئی۔ ہیرولڈ میکملن کے بعد لارڈ ہوم برطانیہ کے وزیرِ اعظم (1963-64) مقرر ہوئے۔ ٹامسن کے مشہور اخبار ”ٹائمز“ کے ایڈیٹر اس وقت ڈینس ہیملٹن تھے۔ انھیں اس تقرر پر اعتراض تھا۔ انھوں نے خاموش رہنے کے بجائے کھللم کھلا وزیرِ اعظم کے خلاف لکھنا شروع کر دیا۔ ٹامسن کے لیے یہ ایک انتہائی نازک صورت حال تھی۔ انھوں نے اپنے ایڈیٹر کو گفتگو کے ذریعہ قائل کرنے کی کوشش کی۔ مگر جب وہ اپنی رائے بدلنے پر تیار نہ ہوا تو انھوں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ یہ کہہ کر معاملہ کو ختم کر دیا: What you say is your own province یعنی یہ تمھارے اپنے دائرۂ کار کا معاملہ ہے۔ تم کو اختیار ہے کہ جو کچھ لکھنا چاہتے ہو لکھو۔ برطانوی شہریت اختیار کرنے کے باوجود ٹامسن کے لیے اب بظاہر ”لارڈ“ بننے کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader