سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
امکان ختم ہو چکا تھا۔ ان کا اخبار برابر برطانوی وزیر اعظم پر تنقیدی مضامین شائع کر رہا تھا۔ مگر سر الیک ڈوگلاس ہوم (Alec Douglas-Home) نے بھی عالی ظرفی سے کام لیا۔ صاحب اقتدار ہوتے ہوئے بھی انھوں نے اپنے دل میں ٹامسن کے خلاف کوئی انتقامی جذبہ پیدا ہونے نہیں دیا۔ اور ان کے لیے لارڈ کے اعزاز کی منظوری دے دی۔ یہی عالی ظرفی ہے، جو افراد اور قوموں کو ترقی کے اعلیٰ مقام کی طرف لے جاتی ہے۔ قابلیت اور مستعدی راجہ مہندر پرتاپ (1979-1886) ہندوستان کے ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے روس جا کر ولاد یمیر لینن (1924-1870) سے ملاقات کی تھی۔ وہ 1919 میں آزادی پسندوں کے ایک وفد کے ساتھ لینن سے ملے تھے۔ وہ جب اشتراکی روس کے پہلے حکمراں کے کمرے میں داخل ہوئے تو لینن کھڑا ہو گیا۔ کمرے کے ایک گوشہ سے وہ خود ہی ایک چھوٹی آرام کرسی اٹھا کر لایا۔ راجہ مہندر پرتاپ کہتے ہیں کہ میں آرام کرسی پر بیٹھا اور میرے ساتھ قریب کے ایک چھوٹے صوفہ پر لینن بیٹھ گیا۔ لینن کا پہلا جملہ یہ تھا: In which language should I speak: English, German, French or Rassian. میں کس زبان میں بولوں۔ انگریزی میں، جرمن میں، فرانسیسی میں یا روسی میں۔ بالآخر طے ہوا کہ انگریزی زبان میں گفتگو ہو۔ راجہ مہندر پرتاپ نے اپنی ایک کتاب لینن کو پیش کی، اس کتاب کا نام تھا_ پریم دھرم: The Religion of Love لینن نے کتاب کو ہاتھ میں لیتے ہی فوراً کہا: ”میں اس کتاب کو پڑھ چکا ہوں“۔ راجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader