قابلیت اور مستعدی
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
مہندر پرتاپ کہتے ہیں کہ میں حیران ہوا کہ لینن کو آخر یہ کتاب کہاں سے ملی۔ پوچھنے پر لینن نے بتایا کہ پچھلے دن شام کو جب آپ میرے سکریٹری سے ملاقات کا وقت مقرر کرنے کے لیے ملے تھے تو آپ نے سکریٹری کو اس کتاب کا ایک نسخہ دیا تھا۔ سکریٹری نے آپ کا تعارف کرتے ہوئے یہ کتاب مجھے دکھائی۔ میں نے کتاب اس سے لے لی اور رات ہی کو اسے پڑھ ڈالا” تا کہ کل صبح میں جس شخص سے ملنے والا ہوں، اس کے خیالات سے واقف ہو جاؤں“۔ لینن جدید روس کا بانی ہے۔ وہ غیر معمولی صلاحیتوں والا آدمی تھا۔ اوپر کے واقعہ سے اس کی دو خصوصیات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک قابلیت، دوسرے مستعدی۔ اس نے تعلیم اور مطالعہ میں اتنی محنت کی تھی کہ وہ چار مختلف زبانیں جانتا تھا اور بیک وقت چاروں زبانوں میں گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اسی کے ساتھ اس کی مستعدی کا عالم یہ تھا کہ دنیا کا انتہائی مصروف حکمران ہونے کے باوجود ایک غیر معروف ہندوستانی کی کتاب اس نے راتوں رات محض اس لیے پڑھ ڈالی کہ کل کے دن وہ جس سے ملنے والا ہے، اس کے خیالات کا اس کو پیشگی اندازہ ہو جائے۔ اس نے اپنی فطری صلاحیتوں کو بھر پور طور پر بروئے کار لانے کی کوشش کی اور اسی کے ساتھ عمل کے مواقع پر بھر پور عمل کیا، وہ دنیا کا ایک کامیاب لیڈر بن گیا۔ اسلام کی خدمت کا میدان ہو یا غیر اسلام کی خدمت کا، وہی لوگ دنیا میں کوئی بڑا کام کرتے ہیں، جو ان دو خصوصیات کا ثبوت دیں۔ ایک طرف وہ وقت کے مطابق مکمل علمی قابلیت رکھتے ہوں، دوسرے وہ اپنی کارکردگی میں پوری طرح مستعدی کا ثبوت دیں۔ قابلیت اور مستعدی کے ان ضروری اوصاف کے بغیر نہ اسلام کا کوئی کام کیا جا سکتا ہے، اور نہ غیر اسلام کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader