Urdu book · سبق آموز واقعات

اپنے خلاف

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے خلاف 1971ء میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم اور پارلیمنتری لبرل پارٹی کے صدر مسٹر جان گارٹن (John Grey Gorton, 1911-2002) تھے۔ پارٹی میں ان کے خلاف شکایت پیدا ہوئی ۔ اس کے بعد پارٹی کی پارلیمنٹری باڈی کی میٹنگ ہوئی جو قاعدہ کے مطابق انھیں کی صدارت میں تھی ۔ میٹنگ میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پیش ہوئی ۔ اس وقت حاضر ممبران 66 تھے۔ ووٹ جب لیے گئے تو دونوں طرف 33، 33 ووٹ پڑے ۔ یعنی تحریک کے موافق اور مخالف دونوں برابر ہو گئے ۔ اب فیصلہ صدر کے ایک زائد ووٹ سے ہونا تھا۔ صدر نے اپنا زائد ووٹ استعمال کیا۔ مگر خود اپنے خلاف ۔ اس طرح انھوں نے خود اپنے ہی ووٹ سے شکست کھائی۔ اس کے بعد وہ پارٹی کی صدارت سے علیحدہ ہو گئے اور کہا: جب ممبران کی اتنی بڑی تعداد صدر کے خلاف ہے تو صدر، صدر باقی رہنے کے قابل نہیں ۔ (الجمعية ویکلی، 20 جولائی 1973) 2۔ انیسوی صدی کے وسط کی بات ہے ۔ پھلواری شریف (بہار) میں دو رئیس رہتے تھے۔ ایک کا نام قاضی غلام امام اور دوسرے کا قاضی مخدوم عالم تھا ۔ دونوں رشتہ دار تھے۔ کسی وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا اور مقدمہ بازی کی نوبت آگئی۔مخدوم عالم سرکاری ملازمت میں تھے ۔ اسی دوران ان کا تبادلہ دور کے مقام پر ہو گیا، جہاں سے پٹنہ کی عدالت میں تاریخوں پر حاضری سخت مشکل تھی ۔ انھوں نے چاہا کہ اپنے مقدمہ کی پیروی کے لیے کسی کو مقرر کر دیں۔ کافی سوچنے کے بعد جب کوئی موزوں آدمی سمجھ میں نہ آیا تو وہ اپنے فریق مخالف قاضی غلام امام کے پاس گئے اور کہا کہ میں تبدیل ہو کر ایسی جگہ جا رہا ہوں کہ مقدمہ کی پیروی خود نہیں کر سکتا۔ یہ تمام کاغذات آپ کے حوالے ہیں ۔ اب آپ ہی میری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page