کام پر انعام
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
کام پر انعام روس کے سابق وزیر اعظم مسٹر خروشیف (Nikita Khrushchev, 1894-1971) اور مسٹر بلگانن (Nikolai Bulganin, 1895-1975، 1956ء) میں ہندوستان آئے تھے۔ مسٹر خروشیف کو بتایا گیا کہ دہلی یونیورسٹی نے طے کیا ہے کہ آپ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا: In Russia, we have to work for it. روس میں اس کے لیے ہمیں کام پیش کرنا پڑتا ہے (ٹائمز آف انڈیا، 12 جون 1980)۔ کسی قوم کی زندگی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اس میں خطابات اور مناصب اور اعزازات حقیقی کام کی بنیاد پر دیے جاتے ہوں، نہ کہ سیاست اور خوشامد کی بنیاد پر۔ اہلیت کی بنیاد پر جب کسی کو کوئی اعزاز ملتا ہے تو لوگ اس کو ایک ہونے والے واقعہ کی حیثیت سے قبول کر لیتے ہیں۔ لوگوں کے اندر یہ جذبہ ابھرتا ہے کہ ہم بھی اسی طرح محنت کریں تا کہ ہم کو بھی یہ مقام ملے۔ اس کے برعکس، جب اہلیت کے بغیر کسی کو کوئی اعزاز دیا جائے تو لوگوں کے اندر اس کا سخت رد عمل ہوتا ہے۔ اب ایک دوسرے کے بارے میں بے اعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ محنت کر کے پانے کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ اس کے بجائے ادھر اُدھر کی تدبیروں سے حاصل کرنے کا جذبہ فروغ پاتا ہے اور بالآخر پورے سماج کی فضا خراب ہو جاتی ہے۔ اہلیت کے بجائے دوسری بنیادوں پر انعام دینے کا رواج خود ہمارے مذہبی اداروں میں بھی چل پڑا ہے۔ آج ایک مذہبی ادارہ میں سب سے بڑی لیاقت نیازمندی ہے، اور سب سے بڑی نااہلی یہ ہے کہ آدمی نیازمند بن کر نہ رہتا ہو۔ ایک آدمی اگر اپنے گروپ کا ہے تو اس کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کیا جائے گا اور اگر وہ اپنے گروپ کا نہیں ہے تو اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader