Urdu book · سبق آموز واقعات

کام پر انعام

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ تنگ ظرفی کا معاملہ ہو گا ۔ کوئی شخص تنقیدی مزاج رکھتا ہو تو ان اداروں میں اس کی کوئی قیمت نہ ہو گی ، اور جو آدمی ہاں میں ہاں ملاتا ہو وہ ہر قسم کے اعزاز کا مستحق سمجھا جائے گا ، خواہ وہ کتنا ہی نااہل کیوں نہ ہو ۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے تمام اداروں میں علم اور محنت کی فضا ختم ہو گئی ہے ۔ جہاں مقام حاصل کرنے کے لیے محنت اور قابلیت غیر اہم چیزیں بن جائیں ، وہاں کسی کے اندر محنت اور قابلیت کا شوق کیوں پیدا ہو گا ۔ آدمی اسی چیز پر اپنی توجہ لگاتا ہے ، جس کو وہ اپنے لیے عزت اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہو ۔ جب عزت اور ترقی ، محنت اور قابلیت کے بغیر سستی چیزوں کے ذریعہ مل رہی ہو تو کون احمق ہو گا ، جو سستی چیز کو چھوڑ کر مہنگی چیز کا خریدار بنے ۔ فرشتہ کا ٹیلیفون وہ ایک ڈاکٹر تھا۔ زندگی بہت مصروف تھی۔ دولت کی بارش اور پیشہ کی سرگرمیوں میں دین کا کوئی خانہ نہ تھا۔ اس کو یہ موقع ہی نہ تھا کہ وہ دینی کتابیں پڑھے یا دینی موضوعات پر کچھ سوچ سکے ۔ اس کے پاس آنے والے سب وہی ہوتے تھے ، جو اس کے پیشہ کے تقاضوں کے اعتبار سے اس سے ملنے کے لیے آتے تھے ۔ البتہ ایک شخص کبھی کبھی اس کے یہاں آتا تھا ، اور دین کے بارے میں اس سے بات کرتا تھا۔ مگر یہ گفتگو ہمیشہ نا تمام ختم ہو جاتی تھی ۔ آنے والے آدمی کو تھوڑی دیر کے بعد محسوس ہوتا کہ ڈاکٹر اس قسم کی گفتگو کو غیر اہم سمجھ کر اس سے بے توجہ ہو رہا ہے ۔ چنانچہ وہ آدمی خود ہی اپنی گفتگو کو ختم کر کے تھوڑی دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرتا اور اس کے بعد چلا جاتا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page