Urdu book · سبق آموز واقعات

کام پر انعام

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روز ڈاکٹر اپنے گھر کے کمرہ میں اکیلا تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ ”ہلو“ کے تبادلہ کے بعد دوسری طرف سے آواز سنائی دی ”میں جبریل بول رہا ہوں۔ خدا تم کو بلانا چاہتا ہے۔“ آواز عجیب بھیانک تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی غیر انسانی مخلوق انسانی زبان میں بول رہی ہے۔ ڈاکٹر پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ وہ کچھ جواب نہ دے سکا۔ اور رسیور اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔ کچھ دیر بعد جب اس کے ہوش وحواس درست ہوئے تو اس نے سوچنا شروع کیا کہ یہ کیسی آواز تھی جو ٹیلیفون پر سنائی دی کہ ”میں جبریل بول رہا ہوں۔ خدا تم کو بلانا چاہتا ہے“۔ سنی ہوئی آواز کو لفظ بہ لفظ یاد تھی۔ مگر اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ معاملہ کیا ہے، اور اس کے جواب میں اس کو کیا کرنا چاہیے۔ اس نے اپنے تمام دوستوں کو ٹیلیفون کر ڈالا اور ہر ایک سے پوچھتا رہا۔ مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس نے ڈاکٹر کو اس قسم کا ٹیلیفون کیا ہے۔ ڈاکٹر کئی روز تک اسی سوچ میں پڑا رہا۔ ٹیلیفون پرسنی ہوئی بھیانک آواز کسی طرح اس کی یاد سے نہیں نکلتی تھی۔ آخر ایک روز مذکورہ آدمی آیا۔ ڈاکٹر نے اس سے اپنے واقعہ کا ذکر کیا۔ آدمی ایک منٹ خاموش رہا اور اس کے بعد بولا: یہ تمھارے نام فرشتہ کا پیغام تھا۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کو حج پر جانا چاہیے۔ ڈاکٹر کی سمجھ میں یہ بات آگئی۔ اس نے فوراً تیاری شروع کردی۔ اور پہلا موقع آتے ہی حج کے لیے روانہ ہوگیا۔ ڈاکٹر کا حج اس کی زندگی کا بڑا تاریخی واقعہ تھا۔ حج کے دوران اس پر عجیب کیفیت طاری رہی۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ رب کعبہ کے مخصوص بلاوے پر دیار حرم میں حاضر ہوا ہے۔ واپس آنے کے بعد چہرہ پر داڑھی اور پنج وقتہ نمازوں کے اہتمام نے بتایا کہ ڈاکٹر اب نیا انسان بن چکا ہے۔ ڈاکٹر کی زندگی میں یہ انقلاب اس لیے آیا کہ ”جبریل“ کی آواز سن کر اس نے سمجھا کہ براہ راست آسمان سے اس کو پکارا جارہا ہے۔ جب کہ مذکورہ شخص کی تبلیغ اس کو محض ایک انسان کی آواز معلوم ہوتی تھی۔ تاہم اگر آدمی کی فطرت بیدار ہو جائے تو اس کو ”ٹیلیفون“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page