آپ بیتی
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
فروری 1977 کی ایک تاریخ کو ڈاک سے ایک پیکٹ ملا۔ کھولا تو اس کے اندر پرانے اور نئے عہد نامہ پر مشتمل ’’الکتاب المقدس‘‘ کا ایک نیا نسخہ موجود تھا۔ فولڈنگ جلد کے ساتھ بائبل پیپر پر چھپا ہوا یہ خوبصورت نسخہ 1684 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کو دیکھنے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ روانگی میں تاخیر کا امکانی سبب کیا تھا۔ پرنٹ لائن کے مطابق بائبل کا یہ عربی نسخہ کوریا میں ابھی 1976 میں چھپا ہے۔ غالباً پادری موصوف کے پاس یا ان کے ادارہ میں عربی نسخے ختم ہو گئے تھے اور جب کوریا سے چھپ کر وہ انھیں پہنچے ہیں تو حسب وعدہ انھوں نے فوراً اس کی روانگی کا انتظام کیا۔ پادری موصوف کے نام جب میں نے شکریہ کا خط روانہ کیا تو خیال آیا کہ کاش ہم بھی اسی طرح ’’شکریہ کے خطوط‘‘ وصول کرنے کی پوزیشن میں ہوتے۔ آج ساری دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو قرآن کو اپنی زبان میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم ان کو قرآن کے ترجمے ان کی زبان میں اس طرح فراہم نہیں کر سکے جس طرح مسیحی حضرات دنیا کی تمام زبانوں میں اپنی مقدس کتاب کو دوسروں تک پہنچا رہے ہیں۔ قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بنی آدم کی طرف خدا کے آخری منذر (آگاہ کرنے والے) تھے۔ آپ نے قرآن کے ذریعے انداز کی یہ ذمہ داری ادا فرمائی اور اپنے بعد کتاب اللہ کو محفوظ حالت میں چھوڑ گئے کہ وہ قیامت تک لوگوں کے لیے آگاہی کا ذریعہ بنی رہے۔ آپ کے بعد یہ قرآن کس طرح لوگوں تک پہنچے گا۔ اس کا ذریعہ امت محمدی ہے۔ امت محمدی کی پہلی اور لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کی آواز کو تمام اقوام عالم تک پہنچائے۔ مگر افسوس کہ آج ساری دنیا میں کوئی بھی ادارہ خاص اس مقصد کے لیے قائم نہیں۔ حتیٰ کہ مسلمان اپنی اس ذمہ داری کے شعور تک سے غافل ہو چکے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader