سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تو یہ کہا تھا کہ میں ”بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑوں“ کے پاس بھیجا گیا ہوں ، مگر آپ کے پیروؤں کے جوشِ تبلیغ نے مسیحیت کو ساری دنیا کے لیے قابلِ مطالعہ بنا دیا۔ اس کے برعکس ، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح لفظوں میں اعلان فرمایا کہ میری بعثت سارے عالم کے لیے ہے (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 335)۔ مگر آپ کے پیروؤں کے اندر یہ آگ نہیں بھڑکتی کہ آپ کے پیغام کو سارے عالم تک پہنچائیں ـــــ جرمن پادری کی طرف سے میں نے عربی بائبل کا نسخہ وصول کیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ زبانِ حال سے کہہ رہا ہو: ”دیکھو تم اسلام کا پیغام پھیلانے میں ناکام رہ گئے اور ہم ساری دنیا میں مسیحیت کا پیغام پہنچار ہے ہیں “۔ ( وحید الدین خاں ، پیدائش 1925 ، جمعیۃ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ ، دہلی) خار جی ختم ہو گئے خارجیت زندہ ہے ایک بار خارجی فرقہ کے چالیس آدمیوں نے ابن زیاد کے دو ہزار سپاہیوں کو مار بھگایا تھا۔ اس پر ایک خارجی شاعر نے فاتحانہ نظم لکھی۔ چند اشعار یہ ہیں : أَلْفًا مُؤْمِنٍ فِيمَا زَعَمْتُمْ وَيَقْتُلُكُمْ بَأْسُكَ أَرْبَعُونَ كَذَبْتُمْ لَيْسَ ذَاكَ كَمَا زَعَمْتُمْ وَلَكِنَّ الْخَوَارِجَ مُؤْمِنُونَ هِيَ الْفِئَةُ الْقَلِيلَةُ قَدْ عَلِمْتُمْ عَلَى الْفِئَةِ الْكَثِيرَةِ يُنْصَرُونَ کیا تم اپنے گمان کے مطابق دو ہزار مومن تھے اور تم کو مقامِ آسک پر صرف چالیس نے مار بھگایا ، تم جھوٹے ہو اور تمھارا خیال غلط ہے ، در حقیقت خوارج مومن ہیں ، تم نے جان لیا کہ یہی وہ تھوڑی جماعت ہے جو بڑی جماعت پر غالب آتی ہے۔ (معجم البلدان ، ياقوت الحموی ، جلد 1 ، صفحہ 54)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader