سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
خارجی شاعر کی اس دلیل کو آج کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ آج بھی ہمارے درمیان بے شمار لوگ ہیں جو اس قسم کی وقتی اور ظاہری کامیابیوں کو اپنی صداقت کا لازمی ثبوت سمجھتے ہیں ــ خارجی فرقہ دنیا سے ختم ہو گیا، مگر خارجیت آج بھی دنیا میں زندہ ہے۔ غلطی میری ہے 1954ء میں جب کہ میں بنارس ہندو یونیورسٹی میں انجینئرنگ کا طالب علم تھا، ایک واقعہ پیش آیا جو کہ اب تک مجھے یاد ہے۔ میرے استاد ڈاکٹر پران ناتھ نے لاپلاس ٹرانسفارم کو پڑھانا شروع کیا تو انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک دلچسپ کہانی ہے، جو ہمارے موجودہ پرنسپل سے متعلق ہے۔ یہ پروفیسر ایم۔ سین۔ گپتا تھے جو اس وقت ہندو یونیورسٹی کے انجینئرنگ کالج کے پرنسپل تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ پروفیسر گپتا مزید تعلیم کے لیے گلاسکو یونیورسٹی گئے تھے اور وہاں سے انھوں نے ٹاپ کیا تھا۔ گلاسکو کا پروفیسر ایک روز بلیک بورڈ پر ایک الیکٹریکل پرابلم کو حل کر رہا تھا۔ اس درمیان میں Differential Equation کا ایک سوال آگیا۔ گلاسکو پروفیسر نے اس کو عام طریقے سے حل کیا، جس میں کافی وقت لگا اور سارا بلیک بورڈ بھر گیا۔ پروفیسر گپتا نے اس موقع پر اپنے پروفیسر سے کہا: میرا خیال ہے کہ یہاں لاپلاس ٹرانسفارم کو اپلائی کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ سوال بہت مختصر طریقہ سے حل ہو جائے گا۔ پروفیسر نے اس تجویز پر عمل کیا تو صرف دو لائنوں میں سوال حل ہو گیا۔ اگرچہ دونوں طریقوں کا آخری جواب ایک ہی تھا۔ مگر پروفیسر نے کہا: جب مختصر طریقہ ہمارے پاس موجود ہے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader