Urdu book · سبق آموز واقعات

سبق آموز واقعات

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

فارسی کو زندہ کر دیا ہے۔ اب مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم ان موضوعات میں داخلے لے رہے ہیں۔ یہ بھی شاید بالواسطہ طور پر اس حدیث نبوی کی تصدیق ہے کہ یہ دین ہمیشہ زندہ رہے گا، سیاسی اور زمانی انقلابات کبھی اس میں کامیاب نہ ہوں گے کہ خدا کے دین کو ماضی کی چیز بنا کر تاریخ کی الماری میں بند کر دیں۔ حادثات ہیرو بنا دیتے ہیں 31 اگست 1976ء کا واقعہ ہے۔ دہلی کے روزری اسکول (نزدیک ریڈیو کالونی) کے میدان میں لڑکے جمع تھے۔ اتنے میں ایک کالا سانپ نکلا اور ایک چھ سالہ بچے کو لپیٹ لیا۔ بچہ چیخنے لگا۔ اس کے ساتھی بھی چیختے ہوئے بھاگے۔ چیخ پکار کی آواز اسٹاف روم تک پہنچی اور اسکول کی استانیاں بچہ کی طرف دوڑیں۔ مگر اس کا خوفناک حال دیکھ کر سب سہم گئیں۔ اتنے میں ایک استانی خاموشی کے ساتھ آگے بڑھی۔ اس کے ہاتھ میں صرف ایک اخبار تھا۔ اس نے اخبار کو سانپ کے منھ پر رکھا اور پوری طاقت سے اس کو پکڑ کر بچے کے پاؤں سے الگ کر دیا۔ لڑکا فورا قریب کے ہندو راؤ اسپتال میں لے جایا گیا، جہاں وہ چند دن کے علاج سے اچھا ہو گیا۔ سانپ کو اسپتال کی لیبوریٹری میں پہنچا دیا گیا، جہاں وہ زندہ حالت میں موجود ہے۔ استانی کا نام مسز جان ہے۔ اور بچہ کا نام راجن کپور۔ مسز جان نے اس سے پہلے کبھی سانپ نہیں دیکھا تھا۔ انھوں نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا: ’’مجھے یقین نہیں آتا کہ میں نے اس موذی سانپ کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا تھا۔ اب تو مجھے اس کو سوچ کر بھی ڈر لگتا ہے‘‘۔ یہ دراصل ’’حادثہ‘‘ تھا جس نے مسز جان کو اس حیرت ناک بہادری کے لیے آمادہ کیا۔ حادثات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page