سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا محمد علی (1931-1878) جب بیتول جیل میں نظر بند تھے، ان کی اہلیہ جیل خانہ میں ان سے ملاقات کے لیے گئیں۔ انھوں نے اپنے شوہر مولانا محمد علی سے کہا: ”تم ہماری فکر نہ کرنا۔ خدا ہی پہلے بھی رازق تھا اور اب بھی وہی رازق ہے۔ تم صرف ایک واسطہ تھے۔ اور خدا بلا واسطہ بھی دے سکتا ہے اور دوسرا واسطہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔“ اس کے بعد انھوں نے کہا” رہا تمھارا کام، سوا گر اجازت ہو تو میں اسے کرتی ہوں“۔ (مضامین محمد علی، جلد اول، صفحہ 84-83) چنانچہ انھوں نے کام شروع کیا اور دو سال کے عرصے میں 45 لاکھ روپے کا چندہ خلافت تحریک کے لیے جمع کر لیا۔ یہ زیر نظر تحریر لکھے جانے سے 45 سال پہلے کا واقعہ ہے، جب کہ ”لاکھ“ کا مطلب اس سے بہت زیادہ تھا، جو آج سمجھا جاتا ہے۔ پہلے کچھ سہنا پڑتا ہے بعض قوموں میں گودنا گدوانے کا رواج ہے۔ پہچان کے لیے یا تبرک کے لیے جسم کے کسی حصہ پر خاص شکلیں یا نام بنوالیتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ مطلوبہ شکل کے مطابق پہلے سوئی سے چھید کیا جاتا ہے اور پھر ان چھیدوں میں مسالہ بھر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کالے رنگ کا نقشہ بن جاتا ہے جو عمر بھر رہتا ہے۔ قصہ ہے کہ ایک آدمی گودنا گودنے والے کے پاس گیا اور کہا کہ میرے ہاتھ پر شیر کی شکل بنا دو۔ گودنے والے نے اپنی سوئی اٹھائی اور نشان لگانا شروع کیا۔ سوئی کی چبھن آدمی کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ اس نے کہا” کیا بنا رہا ہے ہو“۔ گودنے والے نے کہا ”دم “۔ آدمی نے کہا ” کیا دم کے بغیر شیر نہیں ہوتا“۔ گودنے والے نے کہا اچھا۔ اور دوسری چیز بنانے لگا۔ اب پھر سوئی کی نوک چھبنے لگی۔ آدمی نے کہا اب کیا بنا رہا ہے ہو۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader