Urdu book · سبق آموز واقعات

پہلے کچھ سہنا پڑتا ہے

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کہا ”پاؤں“۔ آدمی نے کہا ”کیا پاؤں ضروری ہے“۔ گودنے والے نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اب وہ دوسری چیز گودنے لگا۔ آدمی کے اندر پھر بے چینی پیدا ہوئی۔ اس نے کہا ”اب کیا بنا رہے ہو“ اس نے کہا ”جبڑا“۔ آدمی نے کہا کیا جبڑا ضروری ہے۔ تم بغیر جبڑے ہی کے شیر بنا دو“۔ غرض اس طرح وہ ایک ایک چیز کو منع کرتا گیا اور بالآخر یہ ہوا کہ شیر کی تصویر نہ بن سکی، صرف چند متفرق نشانات اس کے ہاتھ پر بن کر رہ گئے۔ ہر مقصد کے لیے ابتداء کچھ سہنا پڑتا ہے۔ اگر آدمی سہنے کے لیے تیار نہ ہو تو وہ کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ عبدالحمید چھوٹانی (پیدائش 1923ء) پاکستان کے ایک ممتاز سائنس داں ہیں۔ وہ بمبئی آئے۔ اس موقع پر ایک اخباری رپورٹر نے ان سے انٹرویو لیتے ہوئے سوال کیا: ”انجینئرنگ کے میدان میں پاکستان اتنا پیچھے کیوں ہے“۔ مسٹر چھوٹانی نے جواب دیا: ”یہ صحیح ہے کہ ہم انجینئرنگ میں ابھی تک قابل قدر ترقی حاصل نہ کر سکے۔ اس کی خاص وجہ ہے ہمارے یہاں بنیاد (base) کی کمزوری۔ اکا دکا انڈسٹری سے آخر کتنی ترقی کی امید کی جاسکتی ہے۔ (اخبار عالم، 14 اپریل 1979) یعنی تعلیم گاہیں اسی وقت انجینئر زیادہ پیدا کریں گی، جب کہ ان کی کھپت کے لیے ملک میں زیادہ صنعتیں بھی موجود ہوں۔ صنعتوں کی کمی ہو تو کوئی ملک زیادہ انجینئر پیدا نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ہر کام کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ بنیاد کے بغیر کوئی اقدام کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ مثلاً جمہوری دور میں سیاست کی بنیاد عوامی رائے ہے۔ اگر آپ کو عوامی ووٹروں کی اکثریت حاصل نہ ہو تو گویا آپ کے پاس وہ بنیاد ہی نہیں ہے، جس پر الیکشن لڑے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر آپ الیکشن میں کودیں تو لازماً آپ ہاریں گے، اور اگر آپ کے اندر اعتراف کا مادہ نہیں ہے تو مزید یہ حماقت کریں گے کہ اپنی ہار کو چھپانے کے لیے یہ شور کریں گے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر موقع ملے گا تو فوج سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page