سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
ساز باز کر کے مقبول عوام لیڈروں کو قتل کرائیں گے تا کہ آپ عوامی بنیاد نہ ہونے کے باوجود حکومت کی گدی پر پہنچ سکیں۔ اگرچہ اس قسم کی کوشش کبھی کسی کے لیے نتیجہ خیز نہیں ہوئی ہے۔ مستقبل کے اعتبار سے، یہ ملک کی بربادی ہے اور بالآخر خود اپنے آپ کی بھی۔ خود نمائی کے شوق میں ایک صابن ہے ۔ اس کا اشتہار اخبارات میں ایک خاص منظر کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ اس منظر میں ایک لڑکی آبشار کے نیچے نہاتی ہوئی دکھائی گئی ہے۔ یہ منظر کسی آرٹسٹ کے برش نے نہیں بنایا ہے۔ وہ ایک حقیقی منظر ہے۔ یہ مہم 1969 میں شروع کی گئی اور برسوں کے بعد تکمیل کو پہنچی۔ اس مقصد کے لیے ایک خاص لڑکی کا انتخاب کیا گیا۔ جنگل ، سمندر اور دوسرے مقامات کا تجربہ کرنے کے بعد بالآخر آبشار کے غسل کو سب سے زیادہ موزوں سمجھا گیا۔ کیوں کہ آبشار کے گرتے ہوئے پانی میں نہانے کا منظر سب سے زیادہ عوامی کشش رکھتا تھا۔ مختلف آبشاروں کا جائزہ لینے کے بعد کوڑائی کنال کو مقام غسل کے لیے چنا گیا۔ سب سے مشکل یہ تھا کہ یہ کام صرف جاڑوں میں ہو سکتا تھا۔ کیوں کہ اسی موسم میں پہاڑی آبشاروں میں تیز دھارا ہوتا ہے۔ دوسری طرف اس مقصد کے لیے ایک نازک لڑکی کا انتخاب ضروری تھا، جو نہاتے وقت ”پانی کی پری‘‘ معلوم ہو۔ یہ ایک جان جوکھم منصوبہ تھا۔ مگر ماڈلنگ کے پیشہ نے اس کو آسان بنا دیا۔ ایڈورٹائزنگ کمپنی کا عملہ جس کو انتظام کرنا اور فوٹو لینا تھا، مکمل طور پر گرم کپڑوں سے لدا ہوا تھا۔ دوسری طرف ان کی پارٹی کی سب سے زیادہ نازک اور کمزور ممبر صبح 7 بجے ٹھٹھرتے ہوئے پانی کے ریلے میں چھلانگ لگاتی تھی۔ پھسلتی ہوئی چٹانوں پر پانی کے مسلسل گرتے ہوئے دریا کے نیچے اس کو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader