خود نمائی کے شوق میں
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح نہانا پڑتا تھا کہ اس کے چہرے پر صرف فرحت اور خوش گواری کی ہنسی ہو۔ خوف اور گھبراہٹ کی کوئی علامت اس پر ظاہر نہ ہونے پائے۔ کیڑے مکوڑے اور پانی کے سانپ ان سب کے علاوہ تھے۔ کمپنی کے لوگوں کو کبھی لڑکی کو جگانا نہیں پڑا۔ وہ ہر روز صبح کو 5 بجے اپنے گھر پر تیار ملتی تھی۔ یہ واقعہ درجن سے زیادہ بار دہرایا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں فوٹو لیے گئے۔ پھر اس ایک فوٹو کا انتخاب ہوا جو آج لوگوں کو اخبار کے اشتہارات میں نظر آتا ہے۔ لڑکی کے لیے اس ایک فوٹو کی قیمت تھی پندرہ ہزار روپیہ ۔ ماڈلنگ کا یہ پیشہ آج ساری دنیا میں بہت بڑے پیمانہ پر رائج ہے۔ " کیا چیز ہے جو لڑکوں اور لڑکیوں کو ماڈلنگ کے اس سخت کام کی طرف راغب کرتی ہے "۔ ایڈورٹائزنگ کمپنی کے ایک افسر نے اس سوال کے جواب میں کہا: It is, primarily, a case of vanity (Famina, 22 july 1978) بنیادی طور پر اس کی وجہ نمودو نمائش کا جذبہ ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد ہر طرف اس کو اخبارات ورسائل میں اپنا چہرہ چھپا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے ۔ خود نمائی کا یہ جذبہ جو ایک ”پروفیشنل ماڈل“ کو جان جوکھم کام کی طرف لے جاتا ہے، وہی ایک ”لیڈر“ کے کام کا محرک بھی ہے۔ اگر چہ اول الذکر کے مظاہروں کو پیشہ ورانہ نمائش کہا جاتا ہے اور ثانی الذکر کے اسی قسم کے مظاہروں کو قربانی کے پر فخر نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انسان کا حقیقی کمال یہ ہے کہ وہ خودنمائی کے شوق سے اوپر اٹھ جائے۔ اگر چہ تمام کاموں میں انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام یہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader