پھنس جائیں
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
جب دلدل میں پھنس جائیں 1909 ء میں میرا تعلق ریاست باؤنی کدورہ (بندیل کھنڈ) سے ہو گیا تھا۔ نواب ریاض الحسن خاں کا عہدِ حکومت تھا۔ اس وقت میرے بہنوئی محمد سلیمان خاں مودھا (ضلع ہمیر پور) کے تھانہ میں مامور تھے۔ اور میں ہر پندرہویں دن اپنی بہن کو دیکھنے وہاں چلا جاتا تھا۔ فاصلہ صرف دس بارہ میل کا تھا جسے میں گھوڑے پر طے کرتا تھا۔ میں شام کو کدورہ سے چلا۔ میں جاگیربیری کے قریب پہنچا جو کدورہ سے صرف تین میل دُور تھی۔ تو آفتاب غروب ہو چکا تھا اور رات کا دھندلاکا شروع ہو گیا تھا۔ جاگیربیری ایک اونچی پہاڑی پر دریا کے کنارے واقع ہے اور مودھا جانے کے لیے اس دریا کو عبور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس دریا کے دونوں کناروں پر دور دور تک ریت پھیلی ہوئی ہے۔ میں ریت کے اس حصے کو معمولاً پیدل طے کرتا تھا، تا کہ گھوڑے پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ لیکن اس مرتبہ دیر ہو جانے کی وجہ سے میں گھوڑے پر سوار رہا اور اس کو تیز تیز چلانے لگا۔ اس دریا کے متعلق مشہور تھا کہ اس کے کناروں پر کہیں کہیں چور بالوبھی پائی جاتی مسطح نظر آتا ہے۔ لیکن پانی کی سطح ہے۔ چور بالو سے مراد وہ رتیلا حصہ ہے، جو بظاہر صاف اور سے قریب تر ہونے کی وجہ سے اس کے نیچے دلدل ہو جاتی ہے اور اس پر پاؤں رکھتے ہی آدمی ہو یا جانور اندر دھنسنے لگتا ہے۔ اس مرتبہ چونکہ مجھے جلدی تھی، اس لیے معمولی راستہ سے ہٹ کر میں نے مختصر راستہ اختیار کرنا چاہا۔ اور گھوڑے کو اسی طرف ڈال دیا۔ تھوڑی دُور چل کر مجھے ایک رتیلی تنگنارے ملی۔ اور میں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی تا کہ وہ اسے پھاند کر گزر جائے ۔ میں تاریکی میں اس کی چوڑائی کا صحیح اندازہ نہ کر سکا۔ زیادہ سے زیادہ میں اسے تین گز کا سمجھتا تھا۔ حالانکہ وہ چھ گز سے کم نہ تھا۔ میرے ایڑ لگانے پر گھوڑے نے جست تو کی، لیکن وہ اس فاصلہ کو عبور نہ کر سکا۔ اور اس کے اگلے پاؤں رتیلے حصے کے اندر ہی رہے۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader