سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد دفعتاً گھوڑا اندر دھنسنے لگا تو مجھے پتہ چلا کہ میں چور بالوں میں پھنس گیا ہوں۔ چور بالو سے جان بچانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ اس سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں نہ مارے جائیں (اس طرح آدمی اور اندر دھنستا چلا جاتا ہے)، بلکہ اپنے آپ کو بالو پر چت یا پٹ ڈال دیا جائے۔ گھوڑا سینہ تک دھنس چکا تھا اور میں بھی اس کے ساتھ گھٹنوں بالو کے اندر غرق تھا۔ غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ گھوڑے کو بچانا تو ممکن نہیں، اس لیے اس کے ساتھ اپنی جان کیوں گنوائی جائے ۔ میں نے آہستہ آہستہ اپنے دونوں پاؤں رکاب سے الگ کر کے اوپر نکالے اور فوراً چور بالو پر بے حس و حرکت لیٹ گیا۔ اتفاق کی بات کہ اس وقت بیری کے دور اچپوت گھر لوٹتے وقت میرے پاس سے گزرے ۔ اور میں نے انہیں آواز دی ۔ وہ دونوں دوڑے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنی پگڑی کھول کر اس کا سرا میری طرف پھینکا کہ اسے مضبوط پکڑلوں ۔ اور جب میں نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا تو انہوں نے مجھے آہستہ آہستہ گھسیٹنا شروع کیا۔ اور میں اس چور بالو سے نکل گیا ۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ گھوڑے کو کیوں کر نکالا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے یہ ترکیب نکالی کہ پگڑی کا ایک سرا پھندا بنا کر اس کی گردن میں ڈالا جائے اور اس کو بھی گھسیٹا جائے ۔ میں لگام کو جھٹکا دینے لگا۔ مگر گھوڑا تھک کر اس قدر بے جان ہو گیا تھا کہ جھٹکے سے بھی اس کے جسم میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی اور آخر کار وہ دھنستے دھنستے غائب ہو گیا۔ (نیاز فتحپوری) قدر دانی میں جس زمانہ (از ستمبر 1962 ء تا جون (1963) میں میکگل یونیورسٹی (کناڈا) کے اسلامک ریسرچ اینڈ ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ سے بحیثیت معلم کے وابستہ تھا۔ اس زمانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader