Urdu book · سبق آموز واقعات

قدر دانی

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ مئی 1963 ء کے پہلے ہفتہ میں انسٹی ٹیوٹ کی گورننگ باڈی کی ایک میٹنگ ہوئی، جس میں میں بھی شریک تھا اور پروفیسر ولفرڈ کنیبول اسمٹھ (Wilfred Cantwell Smith, 1916-2000) انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اس میں صدر نشین تھے۔ ایجنڈے پر بہت سے تعلیمی مسائل کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ انسٹی ٹیوٹ کے ایک طالب علم مسٹر مشیر الحق (حالیہ پروفیسر شعبہ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ) ایم اے (M.A) کا امتحان دے چکے تھے اور اب وہ پی ایچ ڈی (PhD) میں داخلہ چاہتے تھے۔ میٹنگ میں جب یہ مسئلہ زیر غور آیا تو پروفیسر اسمٹھ نے کہا کہ مشیر ایم اے کے امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہو جائیں گے اور اس بنا پر پی ایچ ڈی میں داخلہ اور اس کے اسکالر شپ کے مستحق ہوں گے ہی، لیکن اس سلسلہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ مشیر شادی شدہ ہیں، اور ان کے بچے بھی ہیں اور مشیر کو ان سے جدا ہوئے دو برس ہو چکے ہیں۔ اب اگر یہ پی ایچ ڈی میں داخلہ لیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اب مزید تین برس اور یہ اپنی بیوی بچوں سے جدا رہیں گے اور یہ ایک جوان میاں بیوی کے لیے نامناسب بات ہے۔ اس بنا پر میں دو تجویزیں پیش کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ مشیر کے لیے ہندوستان آنے جانے کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ موسم گرما کی تعطیل کے تین مہینے اپنے بچوں میں گزار لیں، اور دوسری تجویز یہ ہے کہ ان کی بیوی اور بچوں کو یہاں بلوادیا جائے، اور ان کے اسکالر شپ کی رقم میں اتنا اضافہ کر دیا جائے کہ سب مل کر آسانی سے گزارہ کر لیں۔ کچھ دیر بحث و گفتگو کے بعد اسمٹھ صاحب کی دونوں تجویزوں کو علی سبیل التبادل نہیں بلکہ علی سبیل الاجتماع منظور کر لیا گیا۔ چنانچہ مشیر صاحب ہندوستان آئے۔ تین مہینے کے قریب یہاں رہے اور پھر اپنی بیوی بچوں کو لے کر کناڈا واپس لوٹ گئے۔ (مولانا سعید احمد اکبر آبادی، پیدائش 1908ء، ہمدرد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، تغلق آباد، نئی دہلی)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page