سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
عالم چند سنگھ نے فائل کو غور سے دیکھا تو اس میں مطلوبہ کاغذ موجود تھا۔ چنانچہ انھوں نے فائل کو دوبارہ اپنے انگریز افسر کے پاس بھیجا اور لکھا کہ جناب فائل کے فلاں صفحہ کو ملاحظہ فرمائیں جس میں مطلوبہ کاغذ موجود ہے۔ افسر نے دوبارہ فائل کا جائزہ لیا تو کاغذ اس کے اندر موجود تھا۔ اس کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔ اس نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے فائل پر موٹی سرخ پنسل سے اپنے سابقہ نوٹ کے ساتھ لکھ دیا ــــ میں اس وقت اندھا تھا: I was blind then ( حاجی اختر محمد خاں، پیدائش 1915، محلہ کوٹ، بگرای، ضلع بلند شہر) زندہ انسان ایسے زندہ انسان ہمارے اندر کیوں نہیں ہندوستانی انجینئر غیر ضروری تعمیرات اور غیر ضروری ڈیزائنوں پر کروڑوں روپیہ ضائع کرتے ہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے مسٹر کے ڈی مالویہ (ساببق وزیر پٹرولیم) نے بتایا کہ مشرقی ہندوستان میں ایک پل پر کام ہو رہا تھا۔ اس دوران ڈرلنگ مشین کو پل پر لے جانے کی ضرورت ہوئی۔ اس وقت موقع پر دو انجینئر تھے۔ ایک روسی اور دوسرا ہندوستانی۔ ہندوستانی انجینئر نے کہا کہ ڈرل کرنے کی بھاری مشین پل کے اوپر لے جائی گئی تو پل ٹوٹ کر گر جائے گا۔ اس لیے مشین اس وقت تک پل پر نہ چڑھائی جائے جب تک اس کے استحکام کا مزید انتظام نہ کر لیا جائے۔ روسی انجینئر کو اس سے اختلاف تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ڈرلنگ مشین کو ہم پل پر لے جاسکتے ہیں اور اس سے پل کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بحث بڑھی یہاں تک کہ یہ مسئلہ متعلقہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader