Urdu book · سبق آموز واقعات

سبق آموز واقعات

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

وزیر تک پہنچا۔ روسی انجینئر نے اپنے نقطہ نظر کی وکالت کرتے ہوئے وزیر سے کہا: ”روس میں میری بیوی اور بچے ہیں، اور میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ مگر میں اس کے لیے تیار ہوں کہ پل کے نیچے کھڑا ہو جاؤں جب کہ مشین پل کے اوپر چڑھائی جائے۔“ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے روسی انجینئر نے فی الواقع ایسا ہی کیا اور بے ضرر بچ کر نکل آیا۔ (کے سی کھنا، مطبوعہ السٹریٹڈ ویکلی، 21 ستمبر 1975) ارادہ بیماری پر غالب آیا کلاس میں صحت کی بات چھڑ گئی۔ ماسٹر صاحب صحت کے اصول لڑکوں کو سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں ایک طالب علم کھڑا ہو گیا۔ ”ماسٹر صاحب“ وہ بولا ”اجازت ہو تو ایک بات دریافت کروں“۔ ”ضرور“ ”ماسٹر صاحب اس عمر میں آپ کی اتنی اچھی صحت ہے، اس کا راز کیا ہے“۔ اس کے بعد ماسٹر صاحب نے اپنی کہانی بیان کرنی شروع کی۔ انھوں نے کہا ”یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ میں تم سے بھی چھوٹا تھا، اس وقت میں کلکتہ میں تھا، میری صحت بہت خراب ہو گئی، میں اتنا ڈبلا اور کمزور ہو گیا۔ کہ چلنا پھرنا مشکل ہو گیا۔ ڈاکٹر بھی میرے علاج سے مایوس ہو گئے۔ ایک روز ڈاکٹر نے کہا ”اس کو گھر لے جاؤ۔ اب یہ بچ نہیں سکتا، تاکہ یہ مرے تو اپنے ماں باپ کے پاس مرے“۔ ”ڈاکٹر کو میری موت پر اتنا یقین تھا کہ اس نے میرے سامنے ہی یہ بات کہہ دی۔ مجھے ڈاکٹر کی بات سن کر بہت غصہ آیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا ”مجھے زندہ رہنا ہے“۔ اور میں نے اس کے فوراً بعد زندگی کی جدوجہد شروع کر دی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page