سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
”میں نے سوچا کہ سب سے پہلا کام مجھے یہ کرنا ہے کہ اپنے دماغ سے اس خیال کو نکال دوں کہ میں بیمار ہوں یا مر جانے والا ہوں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ ہو مجھے بہرحال جینا ہے۔ اس کے بعد نہ میں کسی ڈاکٹر کے پاس گیا اور نہ کوئی دوا کھائی۔ البتہ اپنی زندگی کو نہایت منظم کر لیا۔ میں روزانہ صبح کو کھلی ہوا میں ورزش کرتا، روزانہ نہاتا، روزانہ اپنے بدن پر تیل کی مالش کرتا اور دن رات کے سارے اوقات کو ایک نظام کے تحت گزارتا۔ میرا ارادہ میری بیماری پر غالب آیا۔ میں دھیرے دھیرے اچھا ہونے لگا۔ میرے چہرے پر موت کے پیلے پن کے بجائے زندگی کی سُرخی دوڑنے لگی۔ اب میں ایک تندرست نوجوان تھا، جس کی صحت پر لوگ رشک کرتے تھے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، میں بچپن سے جوان ہوا اور جوانی کے بعد اب بڑھاپے کا دور شروع ہو گیا ہے، لیکن ڈاکٹر کے اندازہ کے خلاف نہ صرف یہ کہ میں زندہ رہا بلکہ پھر کبھی بیمار نہیں ہوا۔ میں نے طے کیا تھا کہ مجھے زندہ رہنا ہے اور قدرت نے یہ الفاظ صحیح ثابت کر دکھائے۔“ درخواست کے بغیر ڈاکٹر پی ایل بھٹناگر (1976-1912ء) نے 1933ء میں ایم ایس سی میں ٹاپ کیا تو گھر والوں کی بہترین تمنا یہ تھی کہ وہ آئی سی ایس کے مقابلہ میں بیٹھیں۔ اس وقت ممتاز طالب علموں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش چیز یہی تھی۔ مگر ڈاکٹر بھٹناگر کے علمی شوق نے انھیں مجبور کیا کہ وہ آئی سی ایس افسر بننے کے بجائے ٹیچر اور اسکالر بننے کو ترجیح دیں۔ 1956ء کا واقعہ ہے۔ پروفیسر ہمایوں کبیر (1969-1906ء) وزارتِ تعلیم میں سکریٹری تھے ۔ ان کو ایک ایسے قابل ریاضی داں کی تلاش تھی جس کو انڈین انسٹی آف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader