Urdu book · سبق آموز واقعات

سبق آموز واقعات

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس، بنگلور میں اپلائیڈ میتھمیٹکس (Applied Mathematics) کے شعبہ کا صدر بنایا جا سکے۔ انٹرویو کے لیے سلیکشن کمیٹی مقر ر ہوئی جس کے صدر خود ہمایوں کبیر تھے۔ کمیٹی کو درخواست دہندگان میں کوئی بھی شخص عہدہ کے لائق نہ ملا۔ پروفیسر ہمایوں کبیر نے پروفیسر ڈی ایس کوٹھاری سے کہا جو کہ سلیکشن کمیٹی کے ممبر بھی تھے: ”کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس عہدہ پر بیٹھنے کے لائق ہو“۔ کوٹھاری نے کہا: ”کم از کم ایک شخص تو مجھے معلوم ہے، اور وہ ڈاکٹر بھٹنا گر ہیں۔“ پروفیسر ہمایوں کبیر نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فوراً ڈاکٹر بھٹنا گر کے نام اپائنٹمنٹ لیٹر بھیج دیا۔ اگرچہ موصوف نے اس عہدہ کے لیے کوئی درخواست نہیں دی تھی۔ ڈاکٹر بھٹنا گر نے ٹیچر کے مقابلہ میں صدر بننے کی پیش کش کو بجبر قبول کیا تھا۔ تاہم وہ ان کے لیے مزید عہدوں کا زینہ بنا۔ وائس چانسلر راجستھان یونیورسٹی اور جے پور یونیورسٹی، ممبر یونین پبلک سروس کمیشن۔ 1968 میں ان کو پدم بھوشن کا خطاب دیا گیا۔ یہ تقریب ڈاکٹر ذاکر حسین کے ہاتھوں انجام پائی تھی، جو اس وقت صدر جمہوریہ ہند تھے۔ حکمت عملی ایک خاندان کے یہاں دوسرے فرقہ کا ایک آدمی ملازم تھا۔ اس نے چوری کی۔ نو جوان صاحبزادے جوش میں اس کو مارنے کے لیے دوڑے ۔ باپ نے منع کیا۔ ”تم چوری کے لیے اس کو مارو گے “، باپ نے کہا ” اور اس کے بعد اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ، فرقہ وارانہ فساد کا مسئلہ، کھڑا ہو جائے گا۔ اب گھر کے لوگ مارنے سے رک گئے اور مسئلہ کو حکمت کے ساتھ حل کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page