Urdu book · سبق آموز واقعات

سبق آموز واقعات

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

"حکمت عملی" کا یہ راز جو ایک معمولی آدمی اپنے ذاتی معاملہ میں پاللیتا ہے، اس کو پاکستان کے رہنما اسلامی تحریک کے معاملہ میں نہ جان سکے۔ وہ صورتِ حال کے تمام پہلوؤں کا اندازہ کیے بغیر بار بار ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ اصل مقصد (اسلامی نظام کا قیام) تو حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ ہنگامہ کے نتیجہ میں کچھ دوسرے شدید تر مسئلے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ نئی نئی پیچیدگیاں ابھر کر راستہ کی مشکلات کو کچھ اور زیادہ بڑھادیتی ہیں— مجیب ازم (بنگالیت)، بھٹو ازم (پاکستانی نیشنلزم)، ولی ازم (سرحدی علاقائیت) وغیرہ، سب اسی قسم کے نادان اقدامات کے پیدا شدہ نتائج ہیں۔ "چوری" ختم نہیں ہوتی۔ البتہ "فرقہ وارانہ فسادات" نئے نئے عنوان سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ کیسی عجیب ہے یہ سیاست اور کیسے عجیب ہیں یہ خادمانِ اسلام۔ لڑائی ختم ہوگئی جون 1965 کا واقعہ ہے۔ میں نینی تال کے ایک اسکول میں فزکس کا استاد تھا۔ ایک لڑکا میرے پاس ٹیوشن کے طور پر پڑھنے آتا تھا۔ اس کا نام وزیر سنگھ تھا۔ عمر تقریباً سترہ سال تھی ۔ ایک روز وہ کسی قدر دیر سے آیا۔ حال یہ تھا کہ قمیض پھٹی ہوئی، ہونٹوں سے خون جاری، بال بکھرے ہوئے ۔ اس کا یہ حلیہ دیکھ کر میں نے خیریت دریافت کی۔ اس نے بتایا کہ وہ آ رہا تھا کہ راستہ میں ایک مقام پر ایک رکشہ والے سے اس کا ٹکراؤ ہو گیا۔ اس کے بعد لڑکے میں اور رکشے والے میں تو تو میں میں ہوئی اور دونوں لڑ گئے۔ رکشے والا سردار تھا اور اپنے روایتی حلیہ میں تھا۔ مگر لڑکا بے داڑھی مونچھ اور بغیر پگڑی تھا۔ بظاہر یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ سردار ہے۔ لڑائی میں رکشے والے نے لڑکے کو پٹک دیا۔ اور مارنے لگا۔ اتنے میں لڑکے نے پنجابی زبان میں رکشے والے کو برا بھلا کہا۔ یہ سن کر رکشے والا ٹھٹھک گیا۔ اس نے پوچھا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page